وزیراعظم سے جاپان کے بینک ڈائریکٹر جنرل کی ملاقات، سرمایہ کاری میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 27th, August 2025 GMT
وزیراعظم محمد شہباز شریف سے جاپان کے بین الاقوامی تعاون بینک کے شعبہ مائننگ اور میٹل فائنانس کے ڈائریکٹر جنرل تارو کاٹو نے ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان معاشی اور تجارتی تعاون کو مزید فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان جاپان کے ساتھ سفارتی اور معاشی تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور سرمایہ کاری کے لیے ہر ممکن سہولیات فراہم کرے گا۔
مزید پڑھیں: جاپانی شہر میں روزانہ صرف 2 گھنٹے اسمارٹ فون استعمال کرنے کی تجویز زیر غور
انہوں نے کہا کہ زراعت، آئی ٹی، ٹیکسٹائل اور دیگر شعبوں میں جاپانی ٹیکنالوجی اور مہارت سے پاکستان خاطر خواہ فائدہ حاصل کر سکتا ہے۔
تارو کاٹو نے پاکستانی حکومت اور عوام کی مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا اور جاپان کے سرمایہ کاروں اور بینکوں کی پاکستان میں معاشی پراجیکٹس میں بڑھتی ہوئی دلچسپی اور تعاون کو مزید بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔
مزید پڑھیں: پنجاب میں جدید شہری ترقی کے لیے مریم نواز کا جاپانی ماڈل اپنانے کا فیصلہ
وزیراعظم نے مزید کہا کہ پاکستان کی سستی لیبر مارکیٹ بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو مسابقتی ماحول فراہم کرتی ہے اور حکومت پاکستان سرمایہ کاری کے لیے ملک کو محفوظ بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
جاپان جاپان بین الاقوامی تعاون بینک وزیراعظم محمد شہباز شریف.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جاپان جاپان بین الاقوامی تعاون بینک وزیراعظم محمد شہباز شریف جاپان کے کے لیے
پڑھیں:
پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
روم: پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم کر دی گئی۔پاکستان کے سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکرٹری جنرل، عزت مآب سفیر ریکارڈو گوارِیلیا نے حال ہی میں ایک ایسے معاہدے پر دستخط کئے ہیں. جس کے تحت سفارتی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کیلئے ویزا کی شرط ختم کر دی گئی ہے. معاہدے پر دستخط کی پُروقار تقریب اٹلی کی وزارتِ خارجہ میں روم میں منعقد ہوئی۔تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی. دونوں فریقوں نے پاکستان اور اٹلی کے درمیان تزویراتی تعاون کی مضبوطی، وسعت اور مسلسل ترقی پر اطمینان کا اظہار کیا۔اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان روایتی طور پر دوستانہ اور تعمیری دوطرفہ تعلقات کا جامع جائزہ لیا گیا، جبکہ اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر جاری تعاون پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔دونوں جانب سے اس معاہدے کو باہمی اعتماد اور دوستی کی عکاسی قرار دیا گیا اور اسے موجودہ دوطرفہ تعاون کے نظام میں ایک اہم اضافہ قرار دیا گیا. معاہدے سے سفارتی وفود کے تبادلوں میں آسانی پیدا ہوگی اور دونوں ممالک کے درمیان روابط مزید مستحکم ہوں گے۔پاکستان اور اٹلی کے درمیان اس وقت متعدد نئے معاہدوں پر غور جاری ہے. اس کے علاوہ دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (MoUs) موجود ہیں، جبکہ سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی مطالعات اور منشیات کی سمگلنگ کے خلاف تعاون سمیت مختلف شعبوں میں دونوں حکومتوں کے درمیان 15 معاہدے طے پا چکے ہیں۔دفاعی تعاون کا معاہدہ 2009 میں طے پایا، جبکہ 2013 میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان سٹریٹجک انگیجمنٹ پلان قائم کیا گیا، اسی طرح مشترکہ اقتصادی کمیشن 2005 میں تشکیل دیا گیا، سرمایہ کاری کے تحفظ کا معاہدہ 1997 میں طے پایا، دوہری شہریت کا معاہدہ 1983 میں جبکہ حوالگیِ ملزمان (Extradition) کا معاہدہ 1972 میں دستخط کیا گیا تھا۔اس سے قبل 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں پاکستان اور اٹلی کے درمیان ’’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘‘ کے موضوع پر ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے تھے، جو کسی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باقاعدہ لیبر معاہدہ ہے، اس معاہدے کے تحت پاکستانی افرادی قوت کو اٹلی میں پاکستانی شہریوں کیلئے مختص 10,500 ملازمتوں کے کوٹے سے فائدہ اٹھانے کا موقع حاصل ہوگا۔پاکستانی سفیر نے سیکرٹری خارجہ کی جانب سے سیکرٹری جنرل کو ساتویں دورِ دوطرفہ سیاسی مشاورت میں شرکت کیلئے پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی، انہوں نے 2026 کی آخری سہ ماہی میں اس اجلاس کے انعقاد کیلئے پاکستان کی آمادگی سے آگاہ کیا اور اسلام آباد میں اٹلی کے نئے سفارت خانے کے افتتاح کی خواہش کا اظہار کیا، جو اٹلی کا بیرونِ ملک سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا. اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔