کوئٹہ:

بلوچستان کے ضلع خضدار میں کوئٹہ سے کراچی جانے والی قومی شاہراہ پر تیل بردار گاڑی اور ٹرالر کے درمیان تصادم کے نتیجے میں تین افراد جھلس کر جاں بحق اور دو شدید زخمی ہوگئے۔

لیویز حکام کے مطابق حادثے کے بعد دونوں گاڑیوں میں آگ بھڑک اٹھی جس نے صورتحال کو مزید سنگین کر دیا، خوفناک حادثہ زہری کراس کے قریب قومی شاہراہ این 25 پر اس وقت پیش آیا جب ایک تیل بردار گاڑی جو کوئٹہ سے کراچی کی جانب جا رہی تھی، تیز رفتاری کے باعث ایک ٹرالر سے جا ٹکرائی۔

تصادم اتنا شدید تھا کہ دونوں گاڑیوں میں فوری طور پر آگ لگ گئی جس نے قریبی علاقے کو دھوئیں کے گہرے بادلوں میں لپیٹ دیا۔ عینی شاہدین کے مطابق آگ کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ گاڑیوں میں موجود تین افراد موقع پر ہی جھلس کر ہلاک ہوگئے جبکہ دو افراد شدید زخمی حالت میں بچ گئے۔

حادثے کی اطلاع ملتے ہی لیویز فورس، ریسکیو ٹیمیں اور فائر بریگیڈ کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں، ریسکیو حکام نے بتایا کہ آگ پر قابو پانے میں کافی مشکلات پیش آئیں کیونکہ تیل بردار گاڑی سے مسلسل ایندھن کا اخراج جاری تھا۔

فائر بریگیڈ نے گھنٹوں کی جدوجہد کے بعد آگ پر قابو پایا۔ زخمیوں کو فوری طور پر ابتدائی طبی امداد دی گئی اور انہیں ٹیچنگ اسپتال خضدار منتقل کیا گیا جہاں ان کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ جاں بحق افراد کی لاشیں بھی اسپتال منتقل کر دی گئی ہیں جہاں پوسٹ مارٹم کے بعد ان کی شناخت اور دیگر تفصیلات سامنے آئیں گی۔

 لیویز فورس کے ترجمان نے ایکسپریس نیوز کو بتایا کہ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ حادثہ تیز رفتاری اور ممکنہ طور پر ڈرائیور کی غفلت کے باعث پیش آیا، تیل بردار گاڑی کا تیز رفتار ہونا اور سڑک پر کنٹرول کھو دینا حادثے کی بنیادی وجوہات میں شامل ہیں

ترجمان نے مزید کہا کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو گاڑیوں کی حالت، سڑک کے حالات اور دیگر عوامل کا جائزہ لے گی، لیویز نے قومی شاہراہ پر حفاظتی اقدامات کو مزید سخت کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

زہری کراس کے مقامی رہائشیوں نے حادثے پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کیا ہے ایک عینی شاہد نے بتایا کہ تصادم کی آواز اتنی بلند تھی کہ پورا علاقہ لرز اٹھا، ہم نے فوری طور پر دیکھا کہ دونوں گاڑیوں سے شعلے بلند ہو رہے تھے اور کچھ ہی لمحوں میں سب کچھ تباہ ہو گیا۔

مقامی لوگوں نے قومی شاہراہ پر حفاظتی اقدامات کی کمی پر بھی تنقید کی اور مطالبہ کیا کہ شاہراہ کو دو رویہ کیا جائے تاکہ اس طرح کے دلخراش واقعات سے بچا جا سکے۔

قومی شاہراہ این 25 جو کوئٹہ کو کراچی سے ملاتی ہے، پر حالیہ برسوں میں حادثات کی شرح میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے ایک رپورٹ کے مطابق، 2022 میں بلوچستان کی قومی شاہراہوں پر 5100 سے زائد حادثات ہوئے، جن میں 239 افراد جاں بحق اور ہزاروں زخمی ہوئے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سڑکوں کی خستہ حالی، ناقص روڈ انجینئرنگ اور تیز رفتاری اس طرح کے حادثات کی بڑی وجوہات ہیں۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے حال ہی میں این 25 کے کچھ حصوں کو دو رویہ بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن اب تک اس منصوبے پر خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی۔

دریں اثنا وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے حادثے کا نوٹس لیتے ہوئے گہرے دکھ کا اظہار کیا اور متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی، انہوں نے اسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی کہ زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں، انہوں نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو بھی ہدایت کی کہ شاہراہ پر حفاظتی اقدامات کو بہتر بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: قومی شاہراہ شاہراہ پر کے بعد

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • چیری نے پاکستان میں اپنی گاڑیوں کے تمام ماڈلز کی قیمتیں بڑھا دیں
  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار