نائجیریا میں شادی کی بس حادثے کا شکار، 19 افراد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 15th, September 2025 GMT
نائجیریا: شمالی نائجیریا میں شادی کی تقریب میں شریک ایک بس دریا میں گرنے سے کم از کم 19 خواتین اور بچے ہلاک ہوگئے، یہ بات ایک یونین اہلکار اور مقامی رہائشیوں نے اتوار کو بتائی۔
نیشنل یونین آف روڈ ٹرانسپورٹ ورکرز (NURTW) کے اہلکار ابوبکر محمد نے اے ایف پی کو بتایا کہ ڈرائیور نے ہفتہ کی شام ایک ایسے پل پر بس روکی تھی جو جزوی طور پر منہدم ہوچکا تھا، لیکن بس پیچھے کی طرف لڑھک کر دریا میں جاگری۔
اہلکار نے بتایا کہ یہ بس دلہن کو اس کے نئے شوہر کے گھر لے جانے والے قافلے کا حصہ تھی اور حادثہ زمفارا ریاست کے گاؤں "فَس" کے قریب پیش آیا۔ شبہ ہے کہ ڈرائیور ہینڈ بریک لگانا بھول گیا تھا۔
بس کا رخ پڑوسی ریاست کبی کے شہر جیگا کی طرف تھا۔ فَس گاؤں کے رہائشیوں نے بھی خواتین اور بچوں کی ہلاکت کی تصدیق کی۔
خیال رہے کہ نائجیریا میں خستہ حال سڑکوں پر ٹریفک حادثات عام ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال 9,570 حادثات میں 5,421 اموات ریکارڈ کی گئیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔