ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق لودھراں میں امدادی سرگرمیوں کے لیے پاک فوج کو طلب کر لیا گیا ہے۔ اس سے قبل لاہور، قصور، سیالکوٹ، فیصل آباد، نارووال، اوکاڑہ، سرگودھا اور حافظ آباد میں بھی فوج تعینات کی جا چکی ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ پاک فوج کے دستے ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مل کر امدادی کاموں اور انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ حکومت پنجاب کی جانب سے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف آپریشن جاری ہے جس میں ضلعی انتظامیہ، پی ڈی ایم اے، سول ڈیفنس، ریسکیو 1122 اور پولیس اہلکار 24 گھنٹے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: غذر کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں ریلیف آپریشن جاری رکھا جائے: وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت

سیلاب متاثرہ علاقوں میں 9 ہزار سے زائد سول ڈیفنس رضاکار تعینات ہیں جبکہ ریلیف کیمپس بھی قائم کر دیے گئے ہیں۔ سول ڈیفنس متاثرہ عوام اور ان کے مویشیوں کی محفوظ مقامات تک بحفاظت منتقلی میں پیش پیش ہے۔

ترجمان کے مطابق مشکل کی اس گھڑی میں سول ڈیفنس پنجاب شہریوں کا حقیقی دوست اور مددگار ہے۔ عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔

ترجمان نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ریسکیو اور ریلیف آپریشن میں ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاک فوج ریلیف آپریشن سیلاب.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاک فوج ریلیف آپریشن سیلاب متاثرہ علاقوں میں ریلیف آپریشن سول ڈیفنس کے لیے

پڑھیں:

پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع

حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبے میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع اور نگرانی کے لیے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔

ڈرون مانیٹرنگ کے دوران جھنگ کے تریموں بیراج میں پانی کی سطح معمول کے مطابق ریکارڈ کی گئی جبکہ پاکپتن میں دریائے راوی اور ستلج میں سیلابی صورتحال، پانی کی آمد اور دریائی کناروں پر کٹاؤ کا جائزہ لیا گیا، جہاں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق رہا۔

سرگودھا میں دریائے چناب پر واقع طالب والا پل، خانیوال میں ہیڈ سدھنائی بیراج اور ہیڈ ورکس، جبکہ منڈی بہاؤالدین میں رسول بیراج پر بھی ڈرون سرویلنس کے ذریعے پانی کے بہاؤ کی نگرانی کی گئی۔ حکام کے مطابق ساہیوال کے علاقے کتب شہانہ کے قریب نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سیالکوٹ کے ہیڈ مرالہ پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 74 ہزار کیوسک ریکارڈ ہوا۔

متعلقہ مضامین

  • دریائے راوی میں بلوکی بیراج کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ
  • پنجاب حکومت کا بڑا ریلیف، گھر کی مرمت اور توسیع کے لیے 10 لاکھ روپے تک بلاسود قرض کا اعلان
  • آسام میں سیلاب سے 50 افراد ہلاک، 7 لاکھ بےگھر
  • مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی کارروائیاں تیز، ہزاروں کشمیریوں کی گرفتاریاں، سرچ آپریشن جاری
  • ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ جاری، پنجاب، خیبرپختونخوا اور کشمیر میں مزید بارش کی پیشگوئی
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل