لاہور: دریائے راوی میں سیلابی صورتحال، ریسکیو 1122 ہائی الرٹ
اشاعت کی تاریخ: 29th, August 2025 GMT
لاہور میں دریائے راوی میں سیلابی صورتحال کے پیش نظر ریسکیو1122 کو ہائی الرٹ کر دیا گیا۔
ترجمان ریسکیوکے مطابق 1122 دریائے راوی کے ساتھ ملحقہ علاقوں میں سیلابی علاقے سے لوگوں کو نکال کر کے محفوظ مقام پر منتقل کر رہا ہے۔
ترجمان ریسکیو کا کہنا تھا کہ فرخا آباد میں سیلابی پانی آنے سے 72 افراد کو evacuate کر کے محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔ مانگا منڈی کے علاقے سے ابتک ریسکیو بوٹ سے 40 افراد کو ریسکیو کر لیا ہے۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ ریسکیو اہلکاروں نے تھیم پارک کے علاقے سے ریسکیو بوٹ سے سات افراد کو ریسکیو کیا جبکہ نانوں ڈوگر کے علاقے سے تین سے چار افراد کے انخلا کی کال موصول ہوئی۔
ترجمان ریسکیو کا کہنا تھا کہ ایمرجنسی کی صورت میں ریسکیو 1122 پر کال کریں اور اپنی لوکیشن شیئر کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: میں سیلابی علاقے سے
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک