ملک بھر میں مزید بارشوں کی پیشگوئی، شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 28th, August 2025 GMT
محکمہ موسمیات نے 29 اگست سے 2 ستمبر کے دوران ملک کے مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارشوں کی پیشگوئی کی ہے، جب کہ بعض علاقوں میں شدید بارشوں سے سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پنجاب کے شمالی اور شمال مشرقی اضلاع — جن میں راولپنڈی، لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، گجرات اور دیگر علاقے شامل ہیں — میں 30 اور 31 اگست کے دوران شدید بارشیں متوقع ہیں۔ ان بارشوں کے نتیجے میں ندی نالوں میں طغیانی اور نشیبی علاقوں میں پانی بھرنے کا خدشہ ہے۔
وسطی و جنوبی پنجاب کے اضلاع جیسے ملتان، ڈی جی خان، بہاولپور، ساہیوال اور رحیم یار خان میں بھی 29 تا 31 اگست بارشیں ہوں گی، جن سے شہری علاقوں میں مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
خیبرپختونخوا کے کئی اضلاع — خصوصاً چترال، دیر، سوات، مانسہرہ، ایبٹ آباد، پشاور اور کوہاٹ — میں بھی بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے، جہاں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ موجود ہے، خاص طور پر ملاکنڈ اور ہزارہ ڈویژن میں۔
آزاد کشمیر کے علاقے جیسے مظفرآباد، باغ، کوٹلی، اور میرپور میں 29 اگست سے 2 ستمبر تک تیز بارشیں متوقع ہیں، جن سے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ ہو سکتی ہے۔
گلگت بلتستان میں بھی بارشوں کے ساتھ ساتھ گلیشیئر پھٹنے (GLOF) کا اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ متاثرہ اضلاع میں گلگت، ہنزہ، دیامر، سکردو اور استور شامل ہیں۔
سندھ کے ساحلی علاقوں — کراچی، ٹھٹھہ، بدین، تھرپارکر — میں 30 اگست سے 2 ستمبر کے دوران بارش کا امکان ہے، جبکہ کراچی میں شدید بارشوں کے سبب اربن فلڈنگ (شہری سیلاب) کی وارننگ جاری کی گئی ہے۔
اندرون سندھ کے اضلاع جیسے حیدرآباد، سکھر، دادو، لاڑکانہ اور جیکب آباد میں بھی تیز بارشوں کا امکان ہے۔
بلوچستان کے ساحلی اور مشرقی علاقے — گوادر، پنجگور، خضدار اور لسبیلہ — میں بھی 29 اگست سے بارشیں ہو سکتی ہیں، جہاں نشیبی علاقے زیرِ آب آنے کا خدشہ ہے۔
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ مسلسل بارشوں کے باعث دریائے راوی، ستلج اور چناب کے کنارے بسے علاقوں میں سیلاب کی شدت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
محکمہ نے عوام سے کہا ہے کہ وہ بارشوں کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں، خاص طور پر شمالی علاقوں میں سیاح لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے کے پیش نظر احتیاط برتیں۔ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں فوری طور پر مقامی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں سے رابطہ کیا جائے۔
این ڈی ایم اے نے بتایا ہے کہ تمام متعلقہ ادارے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے متحرک ہیں اور امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔
Post Views: 9.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: علاقوں میں بارشوں کے کے دوران اگست سے میں بھی
پڑھیں:
تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظات
پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا
پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل
عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟
گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔