مقبوضہ کشمیر میں 50 سالہ بارش کا ریکارڈ ٹوٹ گیا، دریاؤں کے بند ٹوٹنے سے تباہی
اشاعت کی تاریخ: 28th, August 2025 GMT
سری نگر (نیوز ڈیسک) مقبوضہ کشمیر میں شدید بارشوں نے 50 سالہ ریکارڈ توڑ دیا۔ 360 ملی میٹر بارش کے باعث دریاؤں کے بند ٹوٹ گئے، کئی پل اور سڑکیں بہہ گئیں جبکہ وادی میں موبائل انٹرنیٹ، براڈبینڈ اور ٹیلی فون سروس مکمل طور پر معطل ہوگئی ہے۔
بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں اب تک 30 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں جبکہ جموں اور ڈوڈا میں ہلاکتوں کی تعداد 37 تک پہنچ گئی ہے۔ دریائے جہلم میں پانی کی سطح خطرناک حد سے اوپر پہنچ گئی ہے جس پر حکام نے مزید بارشوں کی پیشگوئی کے پیش نظر تمام تعلیمی ادارے بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
شدید بارشوں سے بھارت کے شمالی علاقے بھی متاثر ہوئے ہیں۔ ہماچل پردیش اور پنجاب میں دریاؤں میں طغیانی کے باعث کئی عمارتیں زمین بوس ہو گئیں اور درجنوں گاڑیاں بہہ گئیں۔
Post Views: 8.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
برطانوی ایوانِ بالا کے رکن لارڈ قربان حسین نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے حالات نسل کُشی کی طرف جارہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق لارڈ قربان حسین نے برطانوی پارلیمنٹ میں مقبوضہ کشمیر کی انسانی حقوق کی صورتحال پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کے مطابق وہاں کے حالات نسل کشی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔
انہوں نے جینوسائڈ واچ کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے برطانوی حکومت سے پوچھا کہ وہ ان انتباہات کو کس حد تک سنجیدگی سے لیتی ہے اور ممکنہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہے۔
جواب میں برطانوی حکومت کی جانب سے پارلیمانی انڈر سیکرٹری لارڈ کولنز نے کہا کہ برطانیہ انسانی حقوق سے متعلق اپنے دیرینہ مؤقف پر قائم ہے اور بھارتی پولیس یا سکیورٹی فورسز کے خلاف مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کی مکمل، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی حمایت کرتا ہے۔