دریائے سندھ میں 5 ستمبر کو انتہائی اونچے درجے کا سیلاب آنے کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 1st, September 2025 GMT
کراچی:
دریائے سندھ میں گڈو اور سکھر بیراج کے مقام پر 5 ستمبر کو انتہائی اونچے درجے کا سیلاب آنے کا امکان ہے۔
موجودہ صورتحال کے دوران گڈو، سکھر اور کوٹری بیراج میں نچلے درجے کا سیلاب ہے۔
فلڈ ایمرجنسی مانیٹرنگ سیل کی طرف سے سندھ کے بیراجوں میں پانی کی آمد و اخراج کے تازہ اعداد و شمار جاری کر دیے گئے۔
محکمہ آبپاشی سندھ کے مطابق گڈو بیراج پر اَپ اسٹریم 3لاکھ 18ہزار229 جبکہ ڈاؤن اسٹریم میں 3لاکھ 3ہزار877 کیوسک پانی ریکارڈ کیا گیا۔
فوکل پرسن زبیر چنہ نے بتایا کہ سکھر بیراج پر اَپ اسٹریم 2 لاکھ 85ہزار487 اور ڈاؤن اسٹریم میں اخراج 2لاکھ 34ہزار717 کیوسک رہا۔ کوٹری بیراج پر اَپ اسٹریم 2لاکھ 73ہزار844 جبکہ ڈاؤن اسٹریم میں اخراج 2لاکھ 44ہزار739 کیوسک نوٹ کیا گیا۔
تریموں پر پانی میں اضافہ ہو کر اَپ اسٹریم 5لاکھ 50ہزار965 ریکارڈ کیا گیا ہے۔
فوکل پرسن کا کہنا تھا کہ بیراجوں پر پانی کی آمد اور اخراج کو مسلسل مانیٹر کیا جا رہا ہے، سندھ میں بیراجوں اور دریائی بندوں پر کوئی کمزور مقام موجود نہیں، تمام مقامات کو جدید تقاضوں کے مطابق مضبوط بنا دیا گیا ہے۔
زبیر چنہ نے کہا کہ صوبے میں 102 ایسے پوائنٹس تھے جہاں ماضی کی دہائیوں میں سیلابی صورتحال کے دوران کچھ واقعات پیش آئے تھے، تاہم محکمہ آبپاشی سندھ نے ان 102 پوائنٹس پر بہتری اور مضبوطی کے خصوصی اقدامات مکمل کر لیے ہیں تاکہ مستقبل میں کسی بھی خطرے سے محفوظ رہا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت سندھ نے محض احتیاطی اور پیشگی حکمتِ عملی کے تحت ان تمام مقامات پر عملہ تعینات کر دیا ہے، تمام مقامات پر ضروری مشینری و ساز و سامان بھی فراہم کر دیا گیا ہے، تمام مقامات پر ہر وقت نگرانی جاری ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال کا بروقت مقابلہ کیا جا سکے۔
فوکل پرسن زبیر چنہ کا کہنا تھا کہ عوام کو ہر طرح کے خدشات سے محفوظ رکھا جائے گا، حکومت سندھ کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: تمام مقامات
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔