گوجرانوالہ میں اونچے درجے کے سیلاب کا الرٹ جاری
اشاعت کی تاریخ: 5th, September 2025 GMT
پنجاب اس وقت دریائے چناب، دریائے راوی اور دریائے ستلج میں بلند درجے کے سیلاب کی لپیٹ میں ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق گوجرانوالہ میں وفاقی اداروں کی معاونت سے 10واں سپیل الرٹ جاری کیا گیا ہے، جو شام 6 بجے سے رات 9 بجے تک ہیوی رین سپیل پر مشتمل ہے۔
سیلاب متاثرین کی بحالی کارروائی بارشوں کے باعث متاثر ہو رہی ہے جبکہ تینوں دریاؤں میں گزشتہ 5 سے 6 ہفتوں سے ہائی فلڈ کی صورتحال برقرار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سیلاب کے بعد لائف جیکٹ کی ڈیمانڈ میں اضافہ
ہیڈ سیلمانکی پر اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جبکہ دریائے چناب نے سب سے زیادہ تباہی مچائی ہے۔ بیشتر اضلاع شدید متاثر ہوئے تاہم گوجرانوالہ انتظامیہ نے بروقت انخلا کرا کے جانی نقصان کو کم کرنے کی کوشش کی۔
محکمہ آبپاشی کے مطابق پہلا سیلابی ریلہ ملتان کے محمد والا کے مقام پر داخل ہوا جہاں پانی کی سطح اب کم ہو رہی ہے۔ تاہم ایک نیا پونے 6 لاکھ کیوسک کا ریلہ پہنچا ہے جو اگلے 12 گھنٹوں میں ہیڈ محمد والا تک پہنچنے کا امکان ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب کا سیلاب متاثرین کے لیے جامع بحالی پیکیج تیار کرنے کا حکم
مادھوپور ڈیم کے چار پشتے ٹوٹنے سے مسلسل پانی پنجاب میں داخل ہورہا ہے۔ دریں اثنا دریائے راوی اور چناب کے پانی احمد پور سیال کے مقام پر ملنے کا خدشہ ہے، تاہم اگر چناب کا پانی کم نہ ہوا تو یہ سنگم ممکن نہیں ہوگا۔
خانیوال اور ٹوبہ ٹیک سنگھ میں بھی بلند درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا جارہا ہے۔ حکام نے نشیبی علاقوں کے عوام کو احتیاطی تدابیر اپنانے اور محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news الرٹ جاری پنجاب چناب دریا راوی ستلج سیلاب گجرانوالہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: الرٹ جاری دریا راوی ستلج سیلاب گجرانوالہ
پڑھیں:
افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
افغانستان کے صوبہ نورستان میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 40 سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ متعدد افراد اب بھی لاپتا ہیں۔ اقوام متحدہ نے بتایا ہے کہ امدادی اور ریسکیو کارروائیاں بدستور جاری ہیں، تاہم متاثرہ علاقوں میں خوراک، صاف پانی، رہائش اور طبی سہولیات کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے نیوز بریفنگ میں بتایا کہ حالیہ سیلاب نے نورستان میں گھروں، سرکاری عمارتوں اور تجارتی مراکز کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریسکیو ٹیمیں لاپتا افراد کی تلاش میں مصروف ہیں، جبکہ ہلاکتوں اور نقصانات کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔
Las devastadoras inundaciones que
azotan la provincia oriental de Nuristan han dejado un saldo
preliminar de al menos 20 muertos, 80 heridos y más de 100
personas desaparecidas, incluido el alcalde de la capital
provincial de Parun. pic.twitter.com/f2pXZ5kCgA
— Guillermo Gomez (@G_GomezJ) July 22, 2026
اقوام متحدہ کے مطابق متاثرہ علاقوں میں موبائل ہیلتھ ٹیمیں تعینات کر دی گئی ہیں، طبی مراکز کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور خوراک، ادویات اور دیگر ہنگامی امدادی سامان کی فراہمی کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ متاثرین کو فوری طور پر عارضی رہائش، خوراک، طبی سہولیات، بنیادی استعمال کی اشیا اور نفسیاتی معاونت کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب عالمی ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) نے کہا ہے کہ اچانک آنے والے سیلاب سے گھروں اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس کے باعث متعدد خاندان کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ادارے کے مطابق کئی متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو پینے کے صاف پانی اور خوراک تک رسائی حاصل نہیں، جبکہ امدادی ٹیمیں نقصانات کا جائزہ لے کر فوری امداد کی فراہمی کی تیاری کر رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں قیامت خیز سیلاب، 23 افراد جاں بحق، 100 لاپتا
طالبان حکام نے ابتدائی طور پر ہلاکتوں کی تعداد 23 بتائی تھی اور کہا تھا کہ 100 سے زائد افراد لاپتا جبکہ 80 زخمی ہیں، تاہم اقوام متحدہ اور دیگر ذرائع کے مطابق اب ہلاکتیں 40 سے بڑھ چکی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ریسکیو اور نقصانات کے تخمینے کا عمل جاری ہے، اس لیے اعداد و شمار میں مزید تبدیلی آ سکتی ہے۔
آئی او ایم نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان حالیہ برسوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث قدرتی آفات کا زیادہ شکار ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی اور ’ایل نینو‘ جیسے موسمی عوامل شدید بارشوں اور اچانک سیلاب کے خطرات میں اضافہ کر رہے ہیں، جبکہ افغانستان کی جغرافیائی اور معاشی کمزوری اسے ایسی آفات کے لیے مزید حساس بناتی ہے۔ عالمی ادارے نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ متاثرہ آبادی کو ہنگامی امداد کی فراہمی میں افغان حکام کی معاونت جاری رکھے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغانستان سیلاب نورستان