تحصیل سمبڑیال میں شدید بارشوں اور سیلاب نےتباہی مچا دی
اشاعت کی تاریخ: 5th, September 2025 GMT
(ممتاز نیوز) سیالکوٹ کی تحصیل سمبڑیال میں ہونے والی حالیہ شدید بارشوں اور بھارت کی جانب سے دریائے چناب میں یکے بعددیگرے چھوڑے جانے والے پانی نے بری طرح تباہی مچائی ہے۔ گزشتہ ماہ 26 اگست کو بھارت نے دریائے چناب میں تقریباً 11لاکھ کیوسک پانی چھوڑا جس نے پورے بیلے سے ملحقہ چھوٹے بڑے گاؤں اور بستیوں کو ڈبو دیا تھا جس کے چند روز بعد گزشتہ روز بھارت نے پھر ساڑھے پانچ لاکھ کیوسک پانی دریائے چناب میں چھوڑ دیا جس سے پہلے سے ڈوبا ہوا علاقہ بیلا دوبارہ ڈوب گیا ، فصلیں مکمل طور پر تباہ ہوگئیں، سڑکیں ٹوٹ گئیں، مکان گر گئے، بے روزگاری اپنی انتہا پر ہے ، مزدور جو روزانہ کی بنیاد پر محنت مزدوری کر کے اپنا اوراپنے خاندان کا پیٹ پالتے تھے فاکوں پر آ چکے ہیں ،سکول اور ہسپتال بند ہیں ، جانور بہہ گئے اور جو بچ گئے وہ شدید غذائی قلت کا شکار ہیں ۔ دریائے چناب کے بالکل کنارے پر واقع گائوں رندھیر باگڑیاں کا شہر سے زمینی راستہ سڑک میں شگاف پڑجانے کی وجہ سے گزشتہ دس روز سے بند ہے۔ رندھیر باگڑیاں سے ملحقہ چھوٹے گائوں مغل آباد، کشن گڑھ، ملیانوالہ، حسین پور، جمالپور، حبیب پور ، مدوکے، چاؤکے، بھگل شرقی ، بھگل غربی کا بھی یہی راستہ ہے۔ ان علاقوں سے روزانہ ہزاروں لوگ شہر کا رخ کرتے تھے جن میں سکول کے بچے، مریض، فیکٹریوں میں کام کرنے والے ورکر، دودھ اور سبزیاں سپلائی کرنےو الی گاڑیاں یہ سب لوگ اپنے اپنے گاؤں تک محدود ہوچکے ہیں۔ متاثرہ علاقوں کے مکینوں نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ مشکل کی اس گھڑی میں ان کی فوری مددکی جائے، رابطہ سڑک کو فوری بحال کیا جائےاور جن لوگوں کا سیلاب میں نقصان ہوا ہے ان کا ازالہ کیا جائے ۔ سیلابی پانی ابھی تک بیشتر جگہوں پر چل رہا ہے جس سے نظام زندگی مکمل طور پر مفلوج ہو چکا ہے۔
Post Views: 5.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: دریائے چناب
پڑھیں:
مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ
بی جے پی(BJP) کی کٹھ پتلی مودی سرکار کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ سامنے آنے لگا، جہاں بھارت میں نوجوانوں کی تحریک بےقابو ہونے کا اندیشہ بڑھ گیا ہے۔
بھارتی نوجوانوں نے مودی سرکارکو چیلنج کرتے ہوئے کاکروچ پارٹی کی جانب سے نئی دہلی میں احتجاج کی کال دے دی گئی ہے۔ خدشہ ہے کہ پارٹی آہستہ آہستہ زور پکڑتی جائے گی کیونکہ بھارت کے اندر بےتحاشا تضادات اور گروہ بندی پائی جاتی ہے ۔
بھارت میں مودی سرکار نے ان گروہ بندیوں کو کم کرنے کے بجائے ان کو مزید مذہبی بنیادوں پر ہوا دے دی ہے، جہاں نوجوان جو نسلی، ذات اور مذہب کی بنیاد پر دھتکارے جا چکے ہیں، انہیں بھارت میں اپنا مستقبل تاریک نظر آتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کے کاکروچ پارٹی بےحد مقبول ہوتی جا رہی ہے ۔
نیپال اور بنگلادیش کے بعد بھارت میں کاکروچ پارٹی کی جین زی انقلابی تحریک زورپکڑنے لگی ہے۔ عالمی جریدے رائٹرزکےمطابق کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دِپکے نے کہا ہے کہ ہم اس تحریک سے پیچھے نہیں ہٹیں گےاورمیں جلد بھارت آکراس تحریک کوآگے بڑھاؤں گا۔
مزیدپڑھیں:انتقال کی خبریں بے بنیاد،طاہرہ سید نے ویڈیو پیغام جاری کر دیا
ابھیجیت دِپکے کا کہنا ہے کہ خدشہ ہےکہ مجھےایئرپورٹ سے ہی گرفتارکرکےجیل بھیج دیا جائے گا لیکن مجھے کوئی پروا نہیں ہے۔
رائٹرز کے مطابق بے روزگاری،کرپشن اورپیپرلیک نے کروڑوں طلبہ کی زندگیوں کومذاق بنا دیا، یہی بحران اس تحریک کے اصل محرکات ہیں۔
سینئر وکیل پرشانت بھوشن کے مطابق مودی سرکاربھارت میں کسی بھی جین زی انقلاب سے بہت ڈری ہوئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں بڑھتی بے روزگاری اورکرپشن پر نوجوانوں کا غصہ تباہ حال نظام کے خلاف ان کا حقیقی ردِعمل ہے۔ بھارت کی گرتی ہوئی معاشی صورتحال، گرتی ساکھ اورمودی سرکارکی انتہا پسندانہ پالیسیاں عوامی غم و غصے کی بنیاد بن رہی ہیں۔