پی ٹی آئی نے وزیراعلی گلگت سمیت 11منحرف ارکان کی بنیادی رکنیت ختم کردی
اشاعت کی تاریخ: 7th, September 2025 GMT
پی ٹی آئی نے وزیراعلی گلگت سمیت 11منحرف ارکان کی بنیادی رکنیت ختم کردی WhatsAppFacebookTwitter 0 7 September, 2025 سب نیوز
گلگت بلتستان(سب نیوز)گلگت بلتستان میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)کا ساتھ چھوڑنے والے ممبران اسمبلی کیخلاف بڑا فیصلہ آ گیا۔پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)نے وزیر اعلی گلگت بلتستان حاجی گلبر خان سمیت کل 13 منحرف ارکان کو فارغ کر دیا۔
مرکزی ایڈیشنل جنرل سیکرٹری پی ٹی آئی نے حاجی گلبر خان سمیت مزید 11 منحرف ارکین اسمبلی کو پی ٹی آئی سے فارغ کرنے کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق ان ارکان پر پارٹی سے سنگین غداری کر کے فارورڈ بلاک بنانے اور پارٹی منشا کے خلاف ووٹنگ کرنے کا الزام ہے۔جاری نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ وزیراعلی جی بی حاجی گلبر خان، شمس الحق لون، راجہ اعظم، عبدالحمید، سید امجد زیدی، حاجی شاہ بیگ، ثریا زمان، راجہ ناصر علی خان، رکن گلگت بلتستان اسمبلی مشتاق احمد، دلشاد بانو اور فضل رحیم کی بنیادی رکنیت ختم کی گئی ہے، جبکہ سابق گورنر گلگت بلتستان راجہ جلال حسین مقپون کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا ہے۔
مزید برآں ان تمام اراکین کو پارٹی کا نام، جھنڈا اور عہدہ استعمال کرنے کی بھی ممانعت کی گئی ہے، احکامات کی خلاف ورزی کرنے پر سخت قانونی کارروائی کی بھی تنبیہ کی گئی ہے۔واضح رہے کہ منحرف رکن اسمبلی فتح اللہ اور رکن اسمبلی جاوید علی منوا کو پہلے ہی پارٹی سے نکالا جا چکا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچین کے زرمبادلہ کے ذخائر اگست کے آخر تک 3.3222 ٹریلین امریکی ڈالر رہے، اسٹیٹ ایڈمنسٹریشن آف فارن ایکسچینج شہر بانو نقوی ایشیا سوسائٹی فیلو شپ کیلئے منتخب پہلی پاکستانی خاتون افسر بھارت نے دریائے ستلج میں مزید پانی چھوڑ دیا صدرِ مملکت نے اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹیز ترمیمی بل 2025 کی منظوری دے دی خلائی صلاحیتوں، الیکٹرانک وارفیئر اور سائبر ٹیکنالوجی سے فضائی سرحدوں کے تحفظ کیلئے پرعزم ہیں: سربراہ پاک فضائیہ رواں سال کا دوسرا مکمل چاند گرہن آج رات ہوگا یوم فضائیہ 7 ستمبر ، جب پاکستان کے شاہینوں نے دشمن کی فضائی قوت کو ناکام بنایا
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پی ٹی آئی نے
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔