کراچی:

میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ  یہ شہر ہمارا ہے، مسائل کے حل کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔

میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ شہر کی اتھارٹی کس کے پاس ہے یہ سوال وزیر اعظم یا وفاقی وزیروں سے کیا جانا چاہیے، میں تو صرف اتنا کہتا ہوں کہ شہر تو ہمارا ہے اور کراچی کے عوام کو درپیش مسائل حل کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی نہ کسی سطح پر کمانڈ ہونا لازمی ہے تاکہ مؤثر کام ہوسکے۔ وہ حکومت اور وزیر اعلیٰ سندھ کے شکر گزار ہیں جنہوں نے سب کو مل کر کام کرنے کی ہدایت کی ہے تاہم شہر میں کوآرڈینیشن کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

میئر کراچی نے کہا کہ کچھ سیاسی اداکار صرف اس وقت نظر آتے ہیں جب تنقید کرنی ہو، ورنہ کام کرنے کے لیے کوئی نظر نہیں آتا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اپنی زندگی میں لیاری ندی اور اورنگی ندی کو اس طرح بہتے کبھی نہیں دیکھا۔ شاہراہِ بھٹو اور حب کنال پر ترقیاتی کام جاری ہیں، قائد آباد والا فیز زیر تعمیر ہے اور وہاں پر بھی جلد سہولتیں میسر ہوں گی۔ حب کنال کا پرانا حصہ تعمیر ہوچکا ہے جبکہ 22 کلو میٹر نیا حصہ بھی مکمل کیا گیا ہے۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ کچھ لوگ بغضِ پیپلز پارٹی کے بعد اب بغضِ کراچی میں مبتلا ہیں۔ پنجاب کے کئی علاقوں میں بھٹو اور زرداری گئے لیکن وہاں کسی نے تنقید نہیں کی، مگر کراچی کے معاملے پر لوگ بلا وجہ تنقید کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں 2003، 2013 اور 2020 میں بارشوں کے دوران کیا حالات ہوئے سب کے سامنے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میں شہر کی سڑکوں کا ذمہ دار ہوں، یہ لوگ جو صرف تنقید کرتے ہیں دراصل نکمے ہیں۔ ہم اتوار سے دوبارہ سڑکوں پر مرمت اور بحالی کا کام شروع کریں گے۔ جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کے زیر انتظام ٹاؤنز بھی اگر ساتھ دیں تو شہر کے مسائل زیادہ بہتر طور پر حل ہوسکتے ہیں۔

میئر کراچی نے کہا کہ 106 سڑکوں کی تعمیر کے منصوبے پر کام جاری ہے۔ بارش کے باعث ایک فٹ کا گڑھا چھ فٹ تک بڑھ جاتا ہے جس سے سڑکوں کو نقصان ہوتا ہے۔ اس حوالے سے 75 سے 80 کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے تاہم بارش سے ہونے والے اضافی نقصان کے بعد مزید رقم درکار ہوگی، جس کے لیے وزیر اعلیٰ سندھ سے بات کی جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ کراچی کی سڑکوں کی بحالی کے کام کو بارش کے باعث عارضی طور پر روکا گیا تھا لیکن اتوار سے دوبارہ مرمت اور بحالی کا کام شروع کردیا جائے گا تاکہ شہریوں کو بہتر سہولت فراہم کی جاسکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: میئر کراچی نے کہا کہ انہوں نے کے لیے

پڑھیں:

حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔

یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔

عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔

اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔

حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔

مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ

متعلقہ مضامین

  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل