وزیر اعظم کا قطر کا ہنگامی دورہ، اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت اور قطر سے مکمل یکجہتی کا اظہار
اشاعت کی تاریخ: 11th, September 2025 GMT
دوحہ: وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے قطر کے دارالحکومت دوحہ کا ایک روزہ ہنگامی دورہ کیا جہاں انہوں نے امیر قطر، شیخ تمیم بن حمد الثانی سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران وزیر اعظم نے 9 ستمبر کو دوحہ پر ہونے والے اسرائیلی فضائی حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی، جس میں حماس کے پانچ رہنما اور ایک قطری سکیورٹی اہلکار جاں بحق ہوئے تھے۔
وزیر اعظم نے دوحہ پر اسرائیلی حملے کو قطر کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی حکومت اور عوام کو اس افسوسناک واقعے پر گہری تشویش ہے۔
انہوں نے قطری قیادت اور عوام کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے یقین دلایا کہ پاکستان ہر مشکل گھڑی میں برادر ملک قطر کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔
شہباز شریف نے اسرائیلی حملے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی مسلسل جارحیت نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ خطے کے امن کو بھی خطرے میں ڈال رہی ہے۔ انہوں نے امتِ مسلمہ پر زور دیا کہ وہ اسرائیلی اشتعال انگیزیوں کا متحد ہو کر مقابلہ کریں۔
وزیر اعظم نے غزہ میں قیامِ امن کے لئے قطر کی ثالثی کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ اسرائیلی حملے نہ صرف علاقائی استحکام کو متاثر کر رہے ہیں بلکہ انسانی و سفارتی کوششوں کو بھی سبوتاژ کر رہے ہیں۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ قطر کی درخواست پر پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر غور کے لیے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔ پاکستان نے 15 ستمبر کو دوحہ میں ہونے والے غیر معمولی عرب اسلامی سربراہی اجلاس کی میزبانی کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اجلاس کے شریک میزبان کے طور پر اپنی شرکت پر آمادگی ظاہر کی ۔
وزیرِ اعظم نے اس موقع پر قطر کی جانب سے رواں سال کے آغاز میں بھارت کی جانب سے پاکستان پر کی گئی بلاجواز جارحیت کے دوران پاکستان کی حمایت پر بھی شکریہ ادا کیا۔
ملاقات کے اختتام پر امیرِ قطر نے دوحہ کا دورہ کرنے اور اظہارِ یکجہتی پر وزیرِ اعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کیا۔ دونوں رہنماؤں نے خطے میں پائیدار امن، بین الاقوامی قانون کی پاسداری، اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی حمایت میں قریبی تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
وزیرِ اعظم کے ہمراہ پاکستانی وفد میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وزیردفاع خواجہ آصف، وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور معاون خصوصی طارق فاطمی بھی شامل تھے۔
وزیرِ اعظم کی دوحہ آمد پر قطر کے نائب وزیرِ اعظم و وزیر مملکت دفاع شیخ سعود بن عبد الرحمن بن حسن الثانی نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
سکھر:سندھ کے مختلف اضلاع میں آنے والی شدید آندھی، مٹی کے طوفان اور موسلا دھار بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔
مورو میں طوفانی ہواؤں کے باعث گھروں، دکانوں، ہوٹلوں اور سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر نصب سولر پلیٹیں اور سائن بورڈ اکھڑ کر دور جا گرے جبکہ متعدد مقامات پر درخت اور بجلی کی تاریں بھی زمین بوس ہوگئیں۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق مختلف حادثات میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
کئی علاقوں میں شہری خوف و ہراس کا شکار رہے جبکہ طوفان کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے۔
دوسری جانب لاڑکانہ، شکارپور، دادو اور گرد و نواح میں خراب موسمی صورتحال کے باعث بجلی کا ترسیلی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔
سیپکو حکام کے مطابق شدید آندھی اور بارش کے نتیجے میں 220 کے وی گرڈ اسٹیشن لوڈرا، شکارپور اور دادو سے آنے والی 132 کے وی مین سپلائی متاثر ہوگئی جس کے باعث لاڑکانہ سرکل کے متعدد فیڈرز بند ہوگئے۔
سیپکو کنٹرول سینٹر کے مطابق طوفانی موسم سے 220 کے وی اور 132 کے وی کی متعدد اہم ٹرانسمیشن لائنیں ٹرپ کر گئیں جبکہ کئی مقامات پر ٹاورز، پولز اور بجلی کی لائنوں کو نقصان پہنچا ہے۔
صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 46 گرڈ اسٹیشنز متاثر ہوئے جس سے لاڑکانہ، قمبر، شہدادکوٹ، کشمور، کندھکوٹ، گھوٹکی، خیرپور، نوشہروفیروز، مورو اور دیگر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل یا شدید متاثر ہوگئی۔
سیپکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر اعجاز احمد چنہ کی ہدایات پر آپریشن، کنسٹرکشن، جی ایس او اور فیلڈ ٹیموں کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک کر دیا گیا ہے۔
انجینئرز اور تکنیکی عملہ متاثرہ علاقوں میں مرمتی کاموں میں مصروف ہے اور خراب ہونے والے پولز، ٹاورز اور ٹرانسمیشن لائنوں کی بحالی کا عمل جاری ہے۔
سیپکو حکام کا کہنا ہے کہ ادارہ اپنے تمام دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے بجلی کی جلد بحالی کے لیے کام کر رہا ہے تاہم شدید موسمی حالات کے باعث مرمتی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
متاثرہ علاقوں کے صارفین سے صبر و تحمل کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا گیا ہے کہ بجلی کی فراہمی جلد از جلد بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔