Express News:
2026-06-03@04:22:56 GMT

ماحولیاتی اور زرعی ایمرجنسی کا نفاذ

اشاعت کی تاریخ: 12th, September 2025 GMT

وزیراعظم شہباز شریف نے ملک میں ماحولیاتی اور زرعی ایمرجنسی لگانے کا اعلان کردیا ہے۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ہم راتوں رات موسمیاتی تبدیلیوں سے نہیں نمٹ سکتے، بہت بڑے چیلنجز ہیں، سیلاب سے زراعت میں نقصانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے، اس کو کابینہ میں لایا جائے گا۔

 پاکستان میں حالیہ سیلاب نے زراعت کے شعبے کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ پاکستان کا زرعی شعبہ ملک کی معاشی ترقی کے لیے انتہائی اہم ہے اور جی ڈی پی میں اضافے کے لحاظ سے یہ ہماری معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی مانا جاتا ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں نے اس شعبے پر بہت منفی اثرات ڈالے ہیں۔ سیلاب سے ہونے والے نقصانات کے باعث ملک کو فوڈ سیکیورٹی کا خدشہ لاحق ہے۔

حکومتی اعداد و شمار کے مطابق اب تک پنجاب میں 21 لاکھ ایکڑ سے زائد زرعی رقبہ سیلاب کی نذر ہو چکا ہے۔ سیلاب کے نتیجے میں چاول، کپاس،گنے اور مکئی کی فصلیں تباہ ہوگئی ہیں۔ یہ فصلیں نہ صرف قومی غذائی ضروریات کے لیے اہم تھیں بلکہ ان کے ساتھ کسانوں کے خواب جڑے تھے، جو ان فصلوں کے ساتھ ہی پانی میں بہہ گئے ہیں۔ ان فصلوں کی بربادی سے ملکی معیشت پر کاری ضرب لگے گی۔

کپاس کی تباہی ٹیکسٹائل سیکٹر کو متاثر کرے گی، جس کا شمار کلیدی برآمدی شعبوں میں ہوتا ہے۔ چاول کی فصل کی بربادی نہ صرف برآمدات بلکہ ملکی غذائی ضروریات پر بھی اثر انداز ہوگی۔ سبزیوں کی تباہی کا مطلب ہے کہ اب ان کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہو گا جس سے یہ عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو جائیں گی۔ کسان پہلے ہی قرضوں، کھاد، ڈیزل اور بجلی کے بلوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے تھے، اب ان کے پاس فصل رہی نہ مویشی۔ اب تک ہزاروں مویشی سیلاب کی نذر ہو چکے ہیں۔

یہ جانور کسانوں کی جمع پونجی تھے۔ سیلاب کی وجہ سے کسان کی زندگی اجڑ گئی ہے، جس کے ان کی ذہنی صحت پر سنگین اثرات مرتب ہوتے نظر آتے ہیں۔ عالمی تخمینوں کے مطابق معیشت کو 409 ارب روپے سے زیادہ کا نقصان پہنچ چکا ہے۔

 موسمیاتی تبدیلی پاکستان کے زرعی شعبے کی تباہی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات نہ صرف انسانی معاش میں خلل ڈال رہے ہیں بلکہ مختلف ماحولیاتی عوامل کو بھی بری طرح متاثر کر رہے ہیں۔ اندازوں کے مطابق 2050 تک پاکستان میں گندم اور چاول جیسی اہم فصلوں کی پیداوار بالترتیب 14.

7 فیصد اور 20 فیصد تک کم ہو سکتی ہے۔ یہ ایک اہم مسئلہ ہے جس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔یہ حقیقت ہے کہ معیشت کی شرح نمو میں ریکارڈ کمی بھی زرعی شعبے کی بدحالی کی وجہ سے ہی ہوئی ہے۔

دوسری طرف ہماری زرخیز زمینوں پر دھڑا دھڑ رہائشی اسکیمیں بننے کی وجہ سے لاکھوں ایکڑ رقبے پر فصلیں کاشت ہونے کی بجائے وہاں گھر ہی گھر بن رہے ہیں۔ آخر زراعت کی اس تباہی کے منظر کو ہم کب تک برداشت کرتے رہیں گے؟ ہماری وفاقی، صوبائی حکومتیں اور متعلقہ ادارے ہماری سونا اُگلتی زرخیز زمینوں پر رہائشی اسکیموں کی یلغار کو روکنے کے لیے کب عملی اقدامات اور قانون سازی کریں گے؟ اگر زرعی اراضی کی بربادی کرنے والے رہائشی منصوبے اسی تیز رفتاری سے جاری رہے تو یہ ہماری زراعت اور اراضی کو کھا جائیں گے۔

یہ بات تکلیف دہ ہے کہ حکومتی ذرائع اور زرعی ماہرین کے بلند و بانگ دعوؤں کے باوجود ہماری مختلف فصلوں، سبزیوں اور پھلوں کی فی ایکڑ پیداوار اس خطے کے ممالک سے کہیں کم ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمارے کسانوں کے فی ایکڑ پیداواری اخراجات بے حد زیادہ ہیں جب کہ ان کی فی ایکڑ آمدن بے حد کم ہے جس سے زراعت کا ہمارا بنیادی ستون کسان بے حد مالی مشکلات اور تنگدستی کا شکار ہے۔

دکھ کی بات یہ ہے کہ حکومت ان کے مسائل کو حل کرنے اور زراعت کو ترقی دینے کے لیے عملاً کچھ بھی نہیں کرتی ۔ گزشتہ 10 سالوں کے دوران مختلف فصلوں اور سبزیوں کی کتنی نئی اقسام دریافت ہوئیں اور ان کے بیج جن کی پیداواری صلاحیت بھی زیادہ ہے اور وہ بیماریوں کے خلاف زبردست قوت مدافعت رکھتی ہیں۔ وہ ہمارے ہاں استعمال نہیں ہوئیں۔

سوال یہ ہے کہ حکومت اور اس کے اداروں نے حقیقتاً کسانوں کو مختلف فصلوں کا کتنا تصدیق شدہ بیج فراہم کیا؟ بیج کھاد، زرعی ادویات اور ڈیزل میں ملاوٹ کے خاتمے کے لیے کیا عملی اقدامات کیے؟ ان اہم زرعی مداخل کی ذخیرہ اندوزی چور بازاری اور منافع خوری روکنے کے لیے کیا کچھ کیا؟ ہمارے کسانوں کو خالص اور ملاوٹ سے پاک بیج، کھاد، زرعی ادویات، ڈیزل اور زرعی مشینری سستے داموں فراہم کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے۔ بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے کاشتکاروں کو ان کی آباد کاری، زراعت کو بحال کرنے اور ان کے نقصانات کے ازالے کے لیے جو دعوے کیے جارہے ہیں، ان پر کس قدر عملدرآمد ہوگا؟

کسانوں کے حوالے سے ایک اور بنیادی مشکل یہ ہے کہ اْن کے پاس نہ تو فصل کا بیمہ ہے اور نہ ہی حکومت کی طرف سے زرعی سامان پر مناسب سبسڈی، بلکہ مہنگے زرعی مداخل، پیداواری لاگت میں بے تحاشا اضافہ اور پیداوار کی ارزاں قیمت نے چھوٹے کسانوں کی مشکلات دوچند کردی ہیں۔

کاشتکاری سے جڑے مسائل میں ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ پاکستان میںکاشت ہونے والی فصلوں کی بیمہ پالیسی نہیں، سال 2018 میں پنجاب کے چند اضلاع میں فصلوں کی انشورنس (بیمہ) کا ایک آزمائشی منصوبہ محدود علاقے میں شروع کیا گیا تھا۔ بیمہ کمپنیاں اور بینک فصلوں کی بیمہ کاری کرنے سے گریزاں ہیں حالانکہ پنجاب بھر کے علاوہ اِسے دوسرے صوبوں تک بھی پھیلانے کی ضرورت ہے۔ حکومت کی طرف سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے تعاون سے 2008 میں ایک ملک گیر قرض کی بیمہ اسکیم برائے فصل شروع کی گئی تھی۔ تاہم یہ بیمہ صرف قرضوں کی قیمت تک محدود ہے اور ان کی فصلوں کو ہونے والے مجموعی نقصان کو پورا نہیں کرتا۔

زراعت کو پاکستانی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان کے بنیادی قدرتی وسائل قابل کاشت زمین اور پانی ہیں۔ زراعت پاکستان کی جی ڈی پی کا تقریباً 18.9 فیصد ہے اور تقریباً 42.3 فیصد افرادی قوت کو روزگار دیتی ہے۔ سب سیبڑا زرعی صوبہ پنجاب ہے جہاں گندم اور کپاس زیادہ اگائی جاتی ہے۔ آم کے باغات زیادہ تر سندھ اور پنجاب میں پائے جاتے ہیں، جو پاکستان کو دنیا میں آم پیدا کرنے والا چوتھا بڑا ملک بناتا ہے۔

کسان اپنے ٹریکٹروں کے ایندھن کے لیے ڈیزل پر انحصار کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ان کی مشکلات کو بڑھاتا رہتا ہے۔ پاکستان پیٹرولیم مصنوعات کا خالص درآمد کنندہ ہے، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی بھی پٹرول اور ڈیزل دونوں کی قیمتوں میں اضافے کا باعث بنی ہے، جسے عام آبادی بڑے پیمانے پر استعمال کرتی ہے۔ کسانوں کے لیے یہ پیداواری لاگت میں بڑھاوے کا باعث ہے۔

پاکستان کے زرعی شعبے کو پانی کی کمی، موسمیاتی تبدیلی اور غیر موثر آبپاشی جیسے چیلنجز کا سامنا ہے، لیکن یہ تکنیکی ترقی اور تنوع کے ذریعے ترقی کے امکانات کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ 2025 میں پاکستانی زراعت کے عام مسائل میں پانی کی کمی، فرسودہ فارمنگ ٹیکنالوجی اور زیادہ لاگت شامل ہیں۔ ان کا حل آبپاشی کے نظام کو اپ گریڈ کرنا، کاشتکاری کی جدید تکنیکوں کو اپنانا اور درآمدات پر انحصار کو کم کرنے کے لیے مقامی کھاد کی پیداوار کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

ہمارے پاس ڈیم بنانے کے مواقع تھے لیکن ہم نے سب کچھ سیاسی مفادات کی بھینٹ چڑھا دیا۔ آج نتیجہ یہ ہے کہ جب بارش ہوتی ہے تو پانی تباہی مچاتا ہے اور جب بارش نہیں ہوتی تو خشک سالی مارتی ہے۔ یہ ہماری اجتماعی مجرمانہ غفلت ہے۔ پاکستان اُن دس ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ ہمارے ہاں بارشوں کا نظام بگڑ رہا ہے، گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں۔

ملک کے جنوبی علاقوں میں خشک سالی اور شمال میں لینڈ سلائیڈنگ زمین کو اجاڑ رہی ہے۔ اس موسمیاتی تباہی کے باوجود جنگلات کی کٹائی برابر جاری ہے۔ چھوٹے بڑے ڈیمز کی تعمیر پر عملی اقدامات شروع کیے جائیں تاکہ بارش کا پانی تباہی نہیں بلکہ زندگی بنے۔

شجر کاری کو سیاسی نعرے کے بجائے حقیقت بنایا جائے اور قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ کو جدید وسائل اور مکمل اختیارات دیے جائیں، سیلاب سے متاثرہ کسانوں کے قرضے معاف کیے جائیں۔ یاد رہے کہ آنے والی نسلیں سوال کریں گی کہ جب سب کچھ ہمارے سامنے تھا تو ہم نے کچھ کیوں نہ کیا؟ اور شاید اس وقت ہمارے پاس جواب دینے کو کچھ نہ ہو، کیونکہ موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے چیلنجز ملک کی زرعی پیداواری صلاحیت اور مجموعی طور پر غذائی تحفظ کو مسلسل نقصان پہنچا رہے ہیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: موسمیاتی تبدیلیوں پاکستان کے کسانوں کے اور زرعی سیلاب سے فصلوں کی یہ ہے کہ رہے ہیں ہے اور

پڑھیں:

جنگ امن اور معیشت کی کہانی

پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔

دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔

علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔

کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔

بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔

کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔

لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔

بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔

اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو 41 رنز سے شکست دے دی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف دے دیا
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی