سرکاری اسپتال یا مویشی خانہ؟
اشاعت کی تاریخ: 13th, September 2025 GMT
بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے ایک سرکاری اسپتال میں انوکھا اور تشویش ناک منظر دیکھنے میں آیا، جہاں اسپتال کے اندر گائے اور بیل آزادانہ گھومتے رہے۔ اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے، جس نے نہ صرف عوام کو چونکا دیا بلکہ انتظامیہ کی کارکردگی پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔
وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جانور اسپتال کی راہداریوں میں بے خوف پھر رہے ہیں، جبکہ مریض، تیماردار اور طبی عملہ پریشانی میں مبتلا نظر آتے ہیں۔ جانوروں کی موجودگی نے نہ صرف مریضوں کی صحت کو خطرے میں ڈال دیا بلکہ اسپتال کی صفائی اور حفاظتی نظام پر بھی سنگین خدشات پیدا کر دیے ہیں۔
شہریوں نے اس واقعے پر شدید غصے کا اظہار کیا ہے اور حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر سیکیورٹی اور صفائی کے انتظامات بہتر بنائے جائیں۔ سوشل میڈیا پر صارفین نے اسپتال کو’’گوشالا‘‘ (مویشی خانہ) قرار دیتے ہوئے تنقید کی بوچھاڑ کر دی۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا انتظامیہ خوابِ خرگوش سے جاگے گی یا جانوروں کی ‘او پی ڈی وزٹ معمول بن جائے گا؟
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
راولپنڈی: ہولی فیملی اسپتال میں مبینہ غفلت، نومولود بچی کا انگوٹھا کٹ گیا، مقدمہ درج
---فائل فوٹوراولپنڈی کے ہولی فیملی اسپتال میں مبینہ طبی غفلت کے باعث نومولود بچی کا انگوٹھا کٹ گیا، جس پر پولیس نے مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کر دیں۔
پولیس کے مطابق تھانہ نیو ٹاؤن میں بچی کے والد کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق ڈاکٹرز نے اہل خانہ کو بتایا کہ نرس سے غلطی کے باعث بچی کا انگوٹھا کٹ گیا۔
راولپنڈی کے ہولی فیملی اسپتال سے اغوا کئے گئے نوزائیدہ بچے کو سائنٹیفک ٹیکنالوجی اور ہیومن انٹیلی جنس کی مدد سے بازیاب کرالیا گیا۔
ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ اسپتال انتظامیہ نے واقعے کی انکوائری کرانے کی یقین دہانی کرائی، تاہم تاحال اہلِ خانہ کو حقائق سے آگاہ نہیں کیا گیا۔
ایف آئی آر کے مطابق میڈیکو لیگل رپورٹ میں بھی نومولود بچی کا انگوٹھا ضائع ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ متاثرہ بچی کو سانس لینے میں دشواری کے باعث ہولی فیملی اسپتال کی نرسری میں داخل کیا گیا تھا، پولیس نے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔