اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات‘ کوئی بھی کام سنبھالنے کے قابل نہیں: جسٹس محسن
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
اسلام آباد (وقائع نگار) اسلام آباد ہائی کورٹ میں سی ڈی اے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی نے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات نہ ہونے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ قانون کے مطابق سی ڈی اے کے تمام اختیارات میٹرو پولیٹن کارپوریشن کو منتقل ہونا تھے لیکن آج بھی یہ اختیارات سی ڈی اے بورڈ استعمال کر رہا ہے جو کہ منتخب نمائندوں کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔ ایک ایک روپے کے استعمال کا اختیار لوکل گورنمنٹ کے پاس ہونا چاہیے، آئین یہ کہتا ہے کہ عوام کے منتخب نمائندے اپنا اختیار استعمال کریں گے لیکن اسلام آباد میں گزشتہ پانچ سال سے انتخابات نہیں کرائے جا رہے۔ ہائی کورٹ نے اس حوالے سے چار اور سپریم کورٹ نے ایک فیصلہ دیا، مگر حکومت نے ان فیصلوں پر عمل درآمد سے گریز کیا۔ کیا اسلام آباد کے عوام کا یہ حق نہیں کہ ان کے فیصلے ان کے منتخب نمائندے کریں؟ "مجھے پاکستان کا کوئی ایک ادارہ بتائیں جو اپنا کام سنبھالنے کے قابل رہا ہو؟۔ عدالتوں سمیت کوئی ادارہ اپنی بنیادی ذمہ داریاں ادا نہیں کر رہا۔ ماتحت عدالتوں کی حالت سب کے سامنے ہے۔گورننس کے سنجیدہ مسائل ہیں، جو کام عوامی نمائندوں کے کرنے والے تھے وہ عدالتیں کر رہی ہیں۔ اگر قانون کسی کو سوٹ نہ کرے تو ایک طرف رکھ دیا جاتا ہے، اسی وجہ سے پانچ سال سے بلدیاتی انتخابات نہیں ہونے دیے جا رہے۔ ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے۔ عام آدمی کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، وہی حال ججز کا بھی ہے۔ ایسے میں صرف دعا ہی کی جا سکتی ہے۔ ہر کسی کو اپنا کام کرنا چاہیے، غلطیاں سب سے ہوتی ہیں لیکن بدنیتی نہیں ہونی چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: اسلام ا باد
پڑھیں:
چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
چیف جسٹس آف پاکستان نے ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔
چیف جسٹس آف پاکستان نے پاکستان کی عدلیہ کی جانب سے شہدا کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔
ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار مستونگ میں دورانِ ڈیوٹی دہشت گرد حملے میں شہید ہوئے تھے۔
چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہا کہ پاکستان کی عدلیہ اس ناقابلِ تلافی سانحے پر سوگوار خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے شہداء کے درجات کی بلندی اور اہلِ خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔
مزید پڑھیںمستونگ: قومی شاہراہ پر فائرنگ، سیشن جج گن مین سمیت شہید، ایڈیشنل سیشن جج سمیت 2 افراد شدید زخمی
چیف جسٹس آف پاکستان نے زخمی ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری اور جوڈیشل مجسٹریٹ کی جلد صحت یابی کی دعا کی جبکہ شہداء سے اظہارِ عقیدت اور بلوچستان کی ضلعی عدلیہ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے 25 جولائی کو شیڈول جوڈیشل ویلبیئنگ کانفرنس مؤخر کر دی گئی۔
چیف جسٹس نے کہا پاکستان کی عدلیہ بلاخوف و خطر انصاف کی فراہمی کے عزم پر قائم ہے، تشدد اور دہشت گردی کے واقعات قانون کی حکمرانی کے لیے ہمارے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی عدلیہ ہر حال میں انصاف کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔