سوشل میڈیا اکاؤنٹ کی تحقیقات، عمران خان کا ٹیم سے ملنے سے انکار
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
بانی پی ٹی آئی کا ڈپٹی ڈائریکٹر ایاز خان پر بوگس کیس بنانے کا الزام،اکاؤنٹ کے حوالے سے کچھ نہیں بتا سکتا
اگر اس شخص کا نام بتا دیا تو وہ اغوا ہوجائے گا،میرا کوئی خاص پیغام رساں نہیں ہے،تحقیقاتی ٹیم کوسوال کا جواب
بانی پی ٹی آئی نے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے متعلق تحقیقات کے لیے آنے والی ٹیم سے ملنے سے انکار کردیا۔نجی ٹی وی کے مطابق این سی ای آئی کی 3 رکنی ٹیم دوسری بار اڈیالہ جیل پہنچی تاہم عمران خان نے تحقیقاتی ٹیم سے ملنے سے انکار کردیا۔تحقیقاتی ٹیم کی قیادت ایڈیشنل ڈائریکٹر ایاز خان نے کی۔واضح رہے کہ دو روز قبل ایڈیشنل ڈائریکٹر ایاز خان کی سربراہی میں این سی سی آئی اے ٹیم کی اڈیالہ جیل آمد ہوئی تھی، سوالات کے دوران عمران خان ٹیم کو کمرے سے جانے کا کہتے رہے۔ذرائع کے مطابق عمران خان نے ڈپٹی ڈائریکٹر ایاز خان پر بوگس کیس بنانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا تھا کہ اکاؤنٹ کے حوالے سے کچھ نہیں بتا سکتا۔تحقیقاتی ٹیم سے عمران خان نے کہا تھا کہ اگر اس شخص کا نام بتا دیا تو وہ اغوا ہوجائے گا، انہوں نے بار بار کہا میرا کوئی خاص پیغام رساں نہیں ہے، جب کوئی ملاقاتی آتا ہے تو سوشل میڈیا ٹیم کو پیغام بھجواتا ہوں۔این سی سی آئی اے نے سوال کیا تھا کہ کیا آپ کا اکاؤنٹ سی آئی اے، را، یا موساد چلا رہی ہیں۔جواب میں عمران خان نے کہا تھا کہ آپ سے زیادہ محبت وطن سے ہے، آپ زیادہ بہتر جانتے ہیں موساد کے ساتھ کون ہے، بانی نے تفتیش کاروں کو یہ بھی کہا کہ علیمہ خانم کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: ڈائریکٹر ایاز خان تحقیقاتی ٹیم اکاو نٹ تھا کہ ٹیم سے
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ