بانی پی ٹی آئی کا ڈپٹی ڈائریکٹر ایاز خان پر بوگس کیس بنانے کا الزام،اکاؤنٹ کے حوالے سے کچھ نہیں بتا سکتا
اگر اس شخص کا نام بتا دیا تو وہ اغوا ہوجائے گا،میرا کوئی خاص پیغام رساں نہیں ہے،تحقیقاتی ٹیم کوسوال کا جواب

بانی پی ٹی آئی نے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے متعلق تحقیقات کے لیے آنے والی ٹیم سے ملنے سے انکار کردیا۔نجی ٹی وی کے مطابق این سی ای آئی کی 3 رکنی ٹیم دوسری بار اڈیالہ جیل پہنچی تاہم عمران خان نے تحقیقاتی ٹیم سے ملنے سے انکار کردیا۔تحقیقاتی ٹیم کی قیادت ایڈیشنل ڈائریکٹر ایاز خان نے کی۔واضح رہے کہ دو روز قبل ایڈیشنل ڈائریکٹر ایاز خان کی سربراہی میں این سی سی آئی اے ٹیم کی اڈیالہ جیل آمد ہوئی تھی، سوالات کے دوران عمران خان ٹیم کو کمرے سے جانے کا کہتے رہے۔ذرائع کے مطابق عمران خان نے ڈپٹی ڈائریکٹر ایاز خان پر بوگس کیس بنانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا تھا کہ اکاؤنٹ کے حوالے سے کچھ نہیں بتا سکتا۔تحقیقاتی ٹیم سے عمران خان نے کہا تھا کہ اگر اس شخص کا نام بتا دیا تو وہ اغوا ہوجائے گا، انہوں نے بار بار کہا میرا کوئی خاص پیغام رساں نہیں ہے، جب کوئی ملاقاتی آتا ہے تو سوشل میڈیا ٹیم کو پیغام بھجواتا ہوں۔این سی سی آئی اے نے سوال کیا تھا کہ کیا آپ کا اکاؤنٹ سی آئی اے، را، یا موساد چلا رہی ہیں۔جواب میں عمران خان نے کہا تھا کہ آپ سے زیادہ محبت وطن سے ہے، آپ زیادہ بہتر جانتے ہیں موساد کے ساتھ کون ہے، بانی نے تفتیش کاروں کو یہ بھی کہا کہ علیمہ خانم کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: ڈائریکٹر ایاز خان تحقیقاتی ٹیم اکاو نٹ تھا کہ ٹیم سے

پڑھیں:

آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری

الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔

الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔

اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔

کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • جیفری ایپسٹین کیس سے جڑے معروف نام ڈینیئل سیاد کی فرانس میں پراسرار موت