Express News:
2026-06-03@04:37:08 GMT

روایتی کھاجا

اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT

اس کا مطلب یہ نہیں کہ اگر کوئی چیز ہمیں میسر نہیں تو ہم اس کاذکر بھی نہ کریں ، ہم کھانے پینے کی چیزوں کی بات کر رہے ہیں ۔

نہیں نگاہ میں منزل تو جستجو ہی سہی

نہیں وصال میسر تو آرزو ہی سہی

 نہ تن میں خون فراہم نہ اشک آنکھوں میں

 نماز شوق تو واجب ہے بے وضو ہی سہی

کھانے کے سلسلے میں ’’پیزا‘‘ آج کل فیشن ایبل دنیا کا بیسٹ سیلر ہے ، کہتے ہیں کہ یہ اٹلی سے آیا ہے لیکن یہ سن کر آپ حیران ہوجائیں گے کہ یہ یہاں سے اٹلی کو گیا ہے ،ہمارے پشتونخواہ میں مکئی کی روٹی کو ’’پیاسا‘‘ کہتے ہیں خاصا طور پر جنوب میں، اوراس لیے کہتے ہیں کہ اکثراس پیاسا میں کٹی ہوئی پیاز ملا کر پکایا جاتا ہے، اسے ’’پیازہ‘‘ یا پیازی یا پیاز کی روٹی کہا جاتاتھا لیکن اس ’’پیازے ‘‘ میں پھر پیاز کے ساتھ ٹماٹر اورپھرمرچ بھی شامل ہوگئے ،آگے چل کر اس میں کٹی ہوئی سبز دھنیا اورپودینہ بھی ملایا جانے لگا، پھر آہستہ آہستہ اس میں سبز میتھی بھی شامل ہوگئی اورجدید پیازے میں تو لوگ قیمہ بھی ملادیتے ہیں ، یوں یہ ایک طرح تندوری کباب بن گیا ہے جو چائے کے ساتھ پیش کی جاتی ہے لیکن بنیاد پیازو یا پیاسہ ہے ۔

یہ تو اس کی نمکین شکل ہوگئی لیکن شمال یعنی سوات اپر اورچترال یاکوہستان میں اس کی شیرین شکل بھی مروج ہے ، مکئی کی میٹھی روٹی میں اخروٹ، مونگ پھلی، ناریل اوربادام شامل کیاجاتا ہے ، تھوڑی سی خشحاش یا تل اورسونف بھی اس میں ہوتا ہے یہ چونکہ دیرتک خراب نہیں ہوتی اس لیے تحفے میں بھی دی جاتی ہے اور لی جاتی ہے ، مسافرت میں بھی ساتھ رکھی جاتی ہے اور غیر ممالک میں اپنے پیاروں کو بھی گھروں سے بھیجی جاتی ہے یہ گویا مکئی کا فروٹ کیک ہوتا ہے۔

انھی پہاڑی علاقوں میں گندم کی جو روٹی بلکہ پراٹھا پکتا ہے اسے ’’ویشلی‘‘ کہتے ہیں، عربی میں جنر اور انڈین ڈوسے کی طرح اس کاآٹا گوندھا نہیں جاتا بلکہ زیادہ پانی ڈال کر بنائی جاتی ہے پھر توے پر دیسی گھی ڈال کر پیالے کے ذریعے ڈالا جاتا ہے اورممکن حد تک پھیلا کر پراٹھا بنایا جاتا ہے ،اسے زیادہ پکا کر خستہ اور پاپڑ کی طرح کڑک اورکرسپی بھی بنایا جاتا ہے۔ لیکن کمال کی چیز وہ اجتماعی پکوان ہوتا ہے جسے ڈی آئی خان میں ’’پینڈہ‘‘ کہاجاتا ہے ، کھانا ہو تو کسی دن مولانا صاحب کے مہمان بن جائیے وہ بڑا اچھا پینڈہ پکواتے اورکھلاتے ہیں ، اسی پینڈے کو بنوں میں صحبت بھی کہاجاتا ہے ۔

دیسی مرغے مرغیوں کو ضرورت کے مطابق پکایا جاتا ہے اوراس میں نہایت ہی مصالحے دارشوربا اکثر دیسی گھی میں بنایا جاتا ہے پھر ایک بڑے گول برتن میں اسے نکالا جاتاہے، کوشش کی جاتی ہے کہ سارے لوگ ایک ہی برتن کے گرد گول دائرے میں بیٹھ کر اکٹھے کھاسکیں ، آدمی زیادہ ہوں تو برتن زیادہ بھی ہوسکتے ہیں لیکن کوشش کی جاتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس پینڈے یا سوبت میں اکٹھے بیٹھیں ، ہمارے گورنر اوروزیراعلیٰ بھی ’’پینڈے‘‘ والے علاقے کے ہیں ۔

اس شوربے میں خمیری روٹی کے نوالے ڈالے جاتے ہیں اور نرم ہونے پر کھایاجاتا ہے، اکثر تو ابتداء میں ایک دوسرے کے منہ میں نوالہ ڈال کر کی جاتی ہے ، ہرفرد اپنے دائیں بیٹھنے والے سے شروع کرتا ہے ، بوٹیاں یاتو اسی برتن میں ڈالی جاتی ہیں یاالگ برتن میں پیش کی جاتی ہیں، کہیں کہیں انھیں دوبارہ بریان بھی کیاگیا ہوتا ہے ۔ لیکن صوابی کایوسف زئی ’’کٹوہ‘‘ اگرچہ بنوں کے سوبت اور ڈی آئی خان کے پینڈے جیسا ہوتا ہے لیکن ان سے کچھ مختلف بھی ہوتا ہے ، ایک تو یہ کہ اس کادائرہ صرف مرغی مرغے تک محدود نہیں ہے بلکہ چھوٹا بڑا گوشت بھی اس میں شامل ہوتا ہے کیوں کہ یہ محدود دعوتوں کے ساتھ ساتھ شادی بیاہ کی بڑی دعوتوں میں ہوتا ہے ۔

’’کٹوہ ‘‘ ک اورٹ کے زیرسے دراصل ہانڈی کو کہتے ہیں لیکن یہ ہانڈی کچھ لمبوتری چھوٹے مٹکے کی طرح ہوتی ہے جس میں پانچ دس سیر تک گوشت پکایا جاتا ہے۔ شادی بیاہ میں ہوتا یوں ہے کہ چھوٹا یا بڑا گوشت سرشام ہانڈیوں میں مناسب مقدار کے پانی کے ساتھ ڈالا جاتا ہے پھر ان ہانڈیوں کو چولہوں پر چڑھایا جاتا ہے۔ کٹوہ کے اپنے ماہرین ہوتے ہیں اورکٹوؤں کی تعداد ہرآدمی کی حیثیت کے مطابق ہوتی ہے جو دس سے لے کر پچاس ساٹھ تک بھی ہوسکتی ہے ، کٹوے چولہوں پر چڑھادیتے ہیں اوران کے نیچے دھیمی آنچ کی آگ جلا دی جاتی ہے ، نگران ساری رات اس آگ کو جلائے رکھتے ہیں اورمناسب مرحلوں میں نمک مرچ اورمسالے ڈالے جاتے ہیں ۔

صبح تک گوشت اچھی طرح گل چکا ہوتا ہے اوراس میں بڑا لذیذ شوربا بن چکا ہوتا ہے جب کھانے والے آناشروع ہوجاتے ہیں تو مٹی کے چوڑے برتنوں میں یہ گوشت اورشوربا پیش کیا جاتا ہے ، ساتھ ہی خمیری روٹیاں بھی جو الگ سے تندور میں لگاتی گئی ہوتی ہیں ، کھانے والے اس میں نوالے ڈال کر اوربھگو بھگو کر کھاتے ہیں ۔ شادی بیاہ کے علاوہ بھی بڑی تقریبات میں کٹوہ ہوتا ہے ، کچھ عرصہ پہلے ایک ’’تمباکو کنگ‘‘نے اپنے بیٹے کے الیکشن میں ایک ماہ تک دو بھینسوں کاکٹوہ روزانہ ووٹروں کو کھلایا تھا ، یہ کٹوہ ہی کی برکت تھی کہ اس سیٹ پر مخالف امیدوار کو شکست دی گئی تھی جو بہت بڑی اپ سیٹ تھی جو کٹوہ کی برکت سے ہوئی ۔

آج کل یہ کٹوہ ہوٹلوں اورڈھابوں میں بھی مروج اورمقبول ہے ۔لیکن عام کٹوہ بنوں اورڈی آئی خان کی طرح مرغامرغیوں کا ہوتا ہے ، تھوڑا سافرق یہ ہوتا ہے کہ اب یہ ایک دائرے کے بجائے دسترخوانوں اورمیز کرسیوں پر بھی ہوتا ہے، کہیں کہیں پر شوربے کے ساتھ بڑی تعداد میں بھی ہوتا ہے ، بوٹیاں بھی الگ پلیٹوں یا سیخوں میں پیش کی جاتی ہیں اورکہیں کہیں اضافی دیسی گھی بھی الگ برتنوں میں پیش کیاجاتا ہے جس میں سے کھانے والے اپنی خواہش کے مطابق لے کر اپنے سامنے ڈالتے ہیں جو اکثر حریص کھانے والوں کے لیے مصیبت بھی بن جاتا ہے وہ اسے ٹھونس تو لیتے ہیں لیکن بعد میں پچھتاتے ہیں کہ ہاضمہ پر بوجھ بن جاتا ہے اورپیاس کاہوکا لگ جاتا ہے ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کی جاتی ہے کہتے ہیں ہوتا ہے میں بھی کے ساتھ جاتا ہے ہیں اور ہے اور کی طرح ڈال کر پیش کی ہیں کہ

پڑھیں:

فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد

فرانس میں قائم ایک نفسیاتی اسپتال نے ذہنی صحت کے علاج کے لیے ایک غیرمعمولی طریقہ اختیار کیا ہے، جہاں مریضوں کے ڈپریشن، اضطراب اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے گدھوں کی مدد لی جا رہی ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ منصوبہ فرانس میں اپنی نوعیت کا واحد تجربہ سمجھا جاتا ہے۔ دارالحکومت پیرس کے مضافات میں سرسبز و شاداب ماحول اور تاریخی عمارتوں سے گھرا ویل ایورارڈ اسپتال مریضوں کو روایتی طبی علاج کے ساتھ ایک منفرد اور پُرسکون تجربہ بھی فراہم کر رہا ہے۔

اس پروگرام کے تحت مریض گدھوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، انہیں سیر کرواتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور جذباتی تعلق قائم کرتے ہیں۔ حالیہ سیشن کے دوران بھی متعدد مریضوں نے گدھوں کے ساتھ خوشگوار وقت گزارا اور رخصت ہوتے ہوئے انہیں گلے لگا کر محبت کا اظہار کیا۔

60 سالہ مریضہ نیتھلی کے مطابق گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے سے انہیں ویسا ہی سکون ملتا ہے جیسا کسی پُرسکون دوا کے استعمال سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جانوروں کے ذریعے ہونے والا یہ علاج ذہنی آسودگی فراہم کرتا ہے اور وقتی طور پر تمام پریشانیاں ختم دیتا ہے۔

فرانس کے سرکاری نظامِ صحت کے تحت یہ سیشنز مریضوں کو بغیر کسی معاوضے کے فراہم کیے جاتے ہیں۔ عموماً ہر مریض کو ایک مخصوص گدھے کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تاکہ وقت کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف ہو سکیں۔

اس یونٹ میں خدمات انجام دینے والی نرس آڈرے سیفار کے مطابق نیتھلی کی حالت میں چند ملاقاتوں کے بعد ہی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ جسمانی معذوری کے باعث وہیل چیئر سے نکلنے پر آمادہ نہیں تھیں، لیکن گدھے کے ساتھ تعلق نے ان میں اعتماد پیدا کیا اور اب وہ نہ صرف چیئر سے اٹھتی ہیں بلکہ اپنے جانور کے ساتھ کھڑی بھی ہوتی ہیں۔

دوسری جانب  52 سالہ مریض جیروم کا کہنا ہے کہ اس منفرد پروگرام نے ان کے احساسِ تنہائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • گمشدہ لڑکیاں اور معاشرتی بحران: ایک سنجیدہ عدالتی جائزہ
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان