ماتلی پریس کلب کے پہلے صدر اظہر علی خان کی چوتھی برسی عقیدت سے منائی گئی
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ماتلی (نمائندہ جسارت) ماتلی پریس کلب کے پہلے صدر، صحافت کے درخشاں ستارے اور سماجی خدمات کے لیے یاد رکھے جانے والے اظہر علی شاہین کی چوتھی برسی عقیدت کے ساتھ منائی گئی۔ اس موقع پر ماتلی میں ان کے نام پر قائم اظہر علی شاہین مسجد میں روح پرور محفلِ میلاد منعقد ہوئی۔تقریب میں حیدرآباد اور مقامی نعت خواں حضرات نے بارگاہِ رسالتﷺ میں گلہائے عقیدت پیش کیے۔ مرحوم کے صاحبزادے فراز اکبر شاہین، بھائی شاھد نوید اکبر اور خاندان کے دیگر افراد نے محفل کے انتظامات میں بھرپور کردار ادا کیا۔محفل سے خطاب کرتے ہوئے دانش عطاری نے مرحوم کی زندگی اور خدمات پر روشنی ڈالی اور آخر میں خصوصی دعا کرائی۔تقریب میں ماتلی پریس کلب کے عہدیداران و اراکین کے ساتھ ساتھ صحافی برادری، سماجی و سیاسی شخصیات اور شہریوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی، جنہوں نے اظہر علی شاہین کو ان کی لازوال صحافتی و فلاحی جدوجہد پر شاندار خراجِ عقیدت پیش کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اظہر علی
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔