اسلام آباد ایئرپورٹ پر جعل سازی سے ہانگ کانگ جانے والے 5 مسافرآف لوڈ
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
اسلام آباد ایئرپورٹ پر جعل سازی سے ہانگ کانگ جانے والے 5 مسافرآف لوڈ WhatsAppFacebookTwitter 0 21 September, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس) اسلام آباد ایئر پورٹ سے غیر قانونی طور پر ہانگ کانگ جانے کی کوشش کرنے والے پانچ مسافروں کو آف لوڈ کر دیا گیا۔
ایف آئی اےترجمان کےمطابق مسافر بذریعہ تھائی لینڈ وزٹ ویزے پرہانگ کانگ جارہےتھے،مسافروں کے گھروالوں نے فی کس 1 کروڑ 50 لاکھ روپےایجنٹ کو ادا کیے،ایجنٹ نےجعل سازی کرتے ہوئے تینوں بچوں کے نادرا ریکارڈ کو تبدیل کیا۔
ایف آئی اے کے مطابق مسافروں میں بشری،امجد علی، علیزے شاہین، محمد عدنان اور ذیشان علی خان شامل ہیں،مسافرامجد علی خاتون مسافربشریٰ کا حقیقی بیٹا ہے،دیگرمسافروں کو بچے ظاہر کر کے بیرون ملک لےجانے کی کوشش کی گئی،علیزے شاہین، محمد عدنان،ذیشان علی،مسافرخاتون بشری کے حقیقی بچےنہیں ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرامریکی ایچ ون-بی ویزا کی نئی فیس سے متعلق وائٹ ہاؤس نے وضاحت جاری کردی سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں زیادہ تر گرڈ اسٹیشنز اور فیڈرز بحال، رپورٹ جاری برطانوی وزیراعظم آج فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کریں گے مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر بھارت سے کوئی بات نہیں ہوسکتی، وزیراعظم شہباز شریف پاک سعودی معاہدہ معرکہ حق کی مرہون منت ہے، معاشی ثمرات بھی سامنے آئیں گے، خواجہ آصف غزہ میں اسرائیلی فوج کے حملے جاری، مزید 80 سے زائد فلسطینی شہید ہوگئے چوہدری شجاعت حسین پاکستان باڈی بلڈنگ فیڈریشن کے چیئر مین نہیں بنے:ترجمان ق لیگ کی وضاحتCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔