میرپورخاص،مکھیوں ،مچھروں کی یلغار ،انسانی جانوں کو خطرہ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
میرپورخاص(نمائندہ جسارت) میرپورخاص اور اس کے گرد ونواح کے شہری اور دیہی علاقوں میں مکھیوں، مچھروں اور دیگر حشرات لاارض کی بڑے پیمانے پر یلغار، انسانی جانیں شدید خطرے سے دو چار، بڑی تعداد میں ملیریا کے کیسز منظر عام پر آنے لگے جبکہ ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں اور محکمہ صحت نے سنگین صورتحال سے لاتعلقی اختیار کر رکھی ہے ۔ تفصیلات کے مطابق میرپورخاص میں صبح ہوتے ہی گھروں دکانوں، ہوٹلوں، بیکریز، کنفیکشنری اورمٹھائی کی دکانوں میں مکھیوں کے سیاہ چھتے نظر آتے ہیں جبکہ شام ہوتے ہی مچھروں کی یلغار شروع ہو جاتی ہے جس سے ایک جانب گھروں، ہوٹلوں، مٹھائی کی دکانوں میں کھانے پینے کی اشیا کی تیاری میں شدید پریشانی کا سامنا رہتا ہے اور زرا سی بے احتیاطی سے دودھ، چائے، جلیبی کے شیرے اور کھانے پینے کی دیگر اشیا میں مکھیاں تیرتی نظر آتی ہیں تو دوسری جانب شہریوں کی نیند اور آرام وسکون ختم ہو کر رہ گیا ہے دوسری جانب بارشوں کے بعد متعلقہ اداروں کی جانب سے مچھروں اور مکھیوں کی پیدائش اور افزائش کی روک تھام کرنے کے حوالے سے کوئی خاطر خواہ اقدامات دیکھنے میں نہیں آ رہے ہیں شہر میں جگہ جگہ گندے پانی کے جوہڑ، کوڑے کرکٹ کے ڈھیر مچھروں اور مکھیوں کی افزائش کی بنیادی وجہ بنے ہوئے ہیں جس کے باعث ڈینگی، ملیریا اور دیگر امراض کی وبا پھوٹنے کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ محکمہ صحت کے مطابق دوماہ میں ملیریا کے بڑی تعداد میں کیسز رپورٹ ہوئے ہیں شہریوں نے میئر، ٹائونز چیئرمین اور ضلعی انتظامیہ سے مچھروں اور مکھیوں کے خاتمے کے لئے فوری طور پر اسپرے اور صفائی ستھرائی کے لئے اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مچھروں اور
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔