پی سی بی نے ملک بھر میں اسکولز کیلئے بڑے ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کا آغاز کردیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
پاکستان کرکٹ بورڈ نے ملک بھر میں اسکولز کے لیے بڑے ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کا آغاز کر دیا۔ چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام برائے اسکولز 26-2025 کا افتتاح کیا۔
لاہور کے مقامی اسکول میں ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام برائے اسکولز کی افتتاحی تقریب کا انعقاد کیا گیا جہاں ٹورنامنٹ کی ٹرافی کی رونمائی بھی کی گئی۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے کہا ہے کہ ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام ملک بھر کے تمام صوبوں میں بیک وقت شروع ہو رہا ہے، جس میں ملک بھر سے 391 اسکولز حصہ لے رہے ہیں۔ ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام میں 175 سرکاری اسکولز جبکہ 218 نجی اسکولز شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد یوتھ سے نئے کرکٹ اسٹارز کی تلاش ہے، اُمید ہے کہ ٹورنامنٹ سے نئے کھلاڑی سامنے آئیں گے جو پاکستان ٹیم میں شامل ہوکر ملک کا نام روشن کریں گے۔
محسن نقوی کا کہنا ہے کہ میں نے بھی اسی اسکول سے تعلیم حاصل کی۔ اس اسکول سے بہت سی یادیں وابستہ ہیں، خوشی ہے کہ اسی اسکول سے ٹورنامنٹ کا آغاز ہو رہا ہے۔
چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ طلباء کو تعلیم کے ساتھ ساتھ پیشہ ورانہ کرکٹ میں کیریئر بنانے کا موقع ملے گا اور اس سطح سے نیا ٹیلنٹ سامنے آئے گا جس سے پاکستان کرکٹ کو فائدہ ہو گا۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بہترین کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں کو U17, U15 اور U19 ریجنل ٹیموں اور اکیڈمیوں میں شامل کیا جائے گا۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام پی سی بی ملک بھر
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔