سپریم کورٹ—فائل فوٹو

سپریم کورٹ آف پاکستان کے آئینی بینچ میں سپر ٹیکس سے متعلق درخواستوں پر سماعت ہوئی جس کے دوران ٹیکس دہندہ کمپنیوں کے وکیل نے 15 کروڑ سے زائد کمائی پر سپر ٹیکس لگانے کی اپیل کر دی۔

جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 5 رکنی آئینی بینچ نے سماعت کی، جس کے دوران درخواست گزاران کے وکیل احمد جمال سکھیرا نے دلائل دیے۔

جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفار کیا کہ سپر ٹیکس کے حوالے سے کیا ماہرین کی رائے لی گئی کیا، سارے پارلیمنٹرینز کو تو اس فیلڈ کا آئیڈیا نہیں ہو گا۔

سپریم کورٹ کا سپرٹیکس کیس میں تمام عدالتی فیصلوں کا مختصر خلاصہ جمع کرانے کا حکم

اسلام آبادعدالت عظمیٰ نےʼʼ سپر ٹیکس کیسʼʼ کی.

..

جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا کہ آج جو ادارے نقصان کر رہے ہیں، مزید 2، 3 ادارےشامل ہو گئے تو کیا ہو گا؟

جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ سونے کی دکانوں والے بجلی وافر مقدار میں استعمال کر رہے ہیں مگر ٹیکس صرف 5 ہزار دیتے ہیں۔

وکیل احمد جمال سکھیرا نے کہا کہ ٹیکس لگایا جائے مگر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، ماچس کی تیلی پر بھی ٹیکس لگایا گیا ہے۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اگر ماچس پر ٹیکس کم کرانا ہے تو وہ کرا دیتے ہیں۔

وکیل احمد جمال سکھیرا نے کہا کہ جو لوگ ٹیکس چوری کر رہے ہیں ان پر کام کرنا چاہیے، یہاں ٹنکی کی لیکیج تلاش کرنے کی بجائے پانی بھرا جا رہا ہے۔

جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ اس قانون سازی کے وقت اپوزیشن کو اعتراض کرنا چاہیے تھا، 2022ء میں قانون سازی ہوئی تھی، اس وقت دوستانہ اپوزیشن تھی۔

وکیل احمد جمال سکھیرا نے کہا کہ ٹیکس کے خلاف نہیں ہیں مگر ٹیکس مناسب ہونا چاہیے۔

سماعت کے اختتام پر مخدوم علی خان ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئے جنہوں نے کہا کہ احمد سکھیرا سے پوچھ لیں کب تک ختم کریں گے، میں اس حساب سے اسلام آباد کے لیے فلائٹ کا ٹکٹ بک کروں گا۔

وکیل احمد جمال سکھیرا نے جواب دیا کہ میں 2 دن تو کم از کم لوں گا، مجھے کل احساس ہوا کہ بات کر کے کہ اس کی وضاحت بھی ضروری ہے، بات کر کے اسے بیچ میں نہیں چھوڑنا چاہیے، اگر بینچ کے سوالات نہ ہوں تو میں جتنی جلدی ممکن ہو دلائل مکمل کر لوں گا۔

جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ مخدوم صاحب آپ کے دلائل پیر کو ہی ممکن ہے شروع ہوں۔

مخدوم علی خان نے کہا کہ سلمان اکرم راجہ، ڈاکٹر اکرام بھی ہیں، انہوں نے بھی دلائل دینے ہیں، سلمان اکرم راجہ مخدوم علی خان کے دلائل اپنائیں گے۔

جسٹس محمد علی مظہر نے سوال کیا کہ سلمان اکرم راجہ یا ڈاکٹر اکرام کی طرف سے کوئی کمرۂ عدالت میں نہیں ہے۔

جسٹس مندوخیل نے احمد جمال سکھیرا سے سوال کیا کہ آپ کے دلائل کی روشنی میں فیصلہ دیا جائے تو کیا ہو گا؟

جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آپ تو ٹیکس ختم کرنے کی بات کر رہے ہیں۔

جسٹس مندوخیل نے کہا کہ ٹیکس ریکوری ہو جاتی تو یہ اضافی ٹیکس لگائے ہی نہ جاتے۔

وکیل احمد جمال سکھیرا نے کہا کہ 215 ارب روپے کا اضافی بوجھ ڈالنا غلط ہے۔

جسٹس مندوخیل نے سوال کیا کہ آپ کیا چاہتے ہیں؟ کتنا ٹیکس لگایا جاتا؟

یہ بھی پڑھیے جب انکم ٹیکس مسلط نہیں کر سکتے تو سپر ٹیکس کیسے کر سکتے ہیں، سپریم کورٹ

وکیل احمد جمال سکھیرا نے کہا کہ 15 کروڑ روپے پر ٹیکس لگے گا لیکن یہاں تو اس سے نیچے بھی سپر ٹیکس لگ رہا ہے، استدعا ہے کہ جس ٹیکس سلیب میں آ رہے ہوں اسی کے مطابق ٹیکس لگایا جائے، 15 کروڑ سے کم کمائی پر سپر ٹیکس نہیں لگتا تو جتنی کمائی 15کروڑ سے اوپر ہو اس پر لگے۔

ایڈیشنل اٹارنی نے کہا کہ سکھیرا صاحب چاہ رہے ہیں کہ تنخواہ والا بندہ بھی وہی ٹیکس دے جو یہ دے رہے ہیں۔

جسٹس محمد علی مظہرنے کہا کہ ابھی جو نکتہ اٹھایا جا رہا ہے اس کے مطابق تنخواہ دار طبقہ بھی اس سپر ٹیکس میں شامل ہے۔

اس کے ساتھ ہی سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے سپر ٹیکس کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی۔

ٹیکس دہندہ کمپنیوں کے وکیل احمد جمال سکھیرا کل بھی دلائل جاری رکھیں گے۔

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: سوال کیا کہ نے کہا کہ ا ٹیکس لگایا مندوخیل نے سپریم کورٹ کر رہے ہیں سپر ٹیکس کروڑ سے ٹیکس کی پر ٹیکس کے وکیل ہے جسٹس

پڑھیں:

وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) بجٹ سے چند روز قبل ہی آئینی عدالت سے حکومت کو ریونیو کی مد میں بڑا جھٹکا، وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی۔

نجی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وفاقی آئینی عدالت نے غیر رجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا۔ جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کیا۔

 وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31 اے میں ابہام ہے، حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا، اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا۔

لاہور ائیرپورٹ اغواء کیس کا ڈراپ سین، غیرملکی خاتون دوست کے ساتھ رضامندی سے گئی

فیصلے میں کہا گیا کہ قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں، قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے۔

وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں مزید لکھا کہ رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی۔

وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا۔ پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔

ڈیل مکمل جھوٹ ہے ، پی ٹی آئی کوئی ڈیل نہیں کررہی، عمران خان کو خاموش کروانے کے لیے قید تنہائی میں رکھاگیا ہے،علیمہ خان

مزید :

متعلقہ مضامین

  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم