data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

دنیا کے مقبول ترین فٹبال ایوارڈ ’بیلن ڈی اور‘ کی تقریب پیرس میں منعقد ہوئی، جس میں فرانس کے فارورڈ عثمانے ڈیمبلے نے بہترین مرد کھلاڑی کا ایوارڈ اپنے نام کر لیا۔

28 سالہ ڈیمبلے نے گزشتہ سیزن میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 53 میچز میں 35 گول اسکور کیے، جس کی بنیاد پر انہیں یہ اعزاز دیا گیا۔ بیلن ڈی اور جیتنے کے لیے ڈیمبلے کا نام اسپین کے نوجوان اسٹار لامین یمال کے ساتھ نامزد کیا گیا تھا، تاہم کامیابی ڈیمبلے کے حصے میں آئی۔

خواتین کے مقابلے میں یہ ایوارڈ اسپین کی اسٹار کھلاڑی ایتانا بونماٹی نے جیتا، جو مسلسل تیسری بار بیلن ڈی اور جیتنے والی پہلی خاتون کھلاڑی بن گئی ہیں۔ ان کی یہ کامیابی نہ صرف انفرادی کارکردگی کی عکاسی کرتی ہے بلکہ اسپین کی خواتین فٹبال ٹیم کی بڑھتی ہوئی برتری کو بھی ظاہر کرتی ہے۔

بیلن ڈی اور ایوارڈ دنیا بھر میں فٹبال کا سب سے معتبر اعزاز سمجھا جاتا ہے۔ یہ ایوارڈ فرانس فٹبال کی جانب سے سال کے بہترین کھلاڑی کو دیا جاتا ہے اور اس کا فیصلہ دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے 180 صحافیوں کے ووٹوں سے ہوتا ہے۔ اس روایت کو دہائیوں سے فٹبال میں اعلیٰ ترین اعزاز کی حیثیت حاصل ہے۔

واضح رہے کہ بیلن ڈی اور کے ریکارڈ یافتہ کھلاڑیوں میں لیونل میسی سب سے آگے ہیں جنہوں نے یہ ایوارڈ 8 بار جیتا ہے، جبکہ پرتگال کے کرسٹیانو رونالڈو 5 مرتبہ یہ اعزاز اپنے نام کر چکے ہیں۔ ڈیمبلے کی جیت اس بات کا اشارہ ہے کہ فٹبال کی دنیا میں ایک نئی نسل تیزی سے اپنی جگہ بنا رہی ہے۔

ویب ڈیسک شیخ یاسین.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بیلن ڈی اور

پڑھیں:

فیفا ورلڈکپ: ٹرمپ کی مداخلت پر فیصلہ تبدیل، ناروے کا فیفا کیخلاف بڑا اقدام اٹھانے کا فیصلہ

فیفا کی جانب سے امریکی فارورڈ فولارین بالوگن کی ایک میچ کی خودکار معطلی کا اقدام واپس لیے جانے کے فیصلے پر تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ناروے فٹبال فیڈریشن نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس معاملے پر فیفا کی ایتھکس کمیٹی میں باضابطہ شکایت دائر کرنے پر غور کر رہی ہے۔

بالوگن کو بوسنیا ہرزیگووینا کے خلاف میچ میں اسٹریٹ ریڈ کارڈ دکھایا گیا تھا جس کے باعث انہیں بیلجیئم کے خلاف پری کوارٹر فائنل سے باہر ہونا تھا۔

تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت کے بعد فیفا نے ان کی ایک میچ کی پابندی 12 ماہ کے لیے معطل کر دی جس کے نتیجے میں وہ بیلجیئم کے خلاف میدان میں اترے مگر امریکا کو 1-4 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

ناروے فٹبال فیڈریشن کی صدر لیزے کلاوینیس کے مطابق اس معاملے کو فیفا کی جانب سے ٹرمپ کو دیے گئے ’پیس پرائز‘ سے متعلق پہلے سے دائر شکایت کے ساتھ شامل کرنے پر غور کیا جائے گا۔

دوسری جانب بیلجیئم فٹبال فیڈریشن اور یورپی فٹبال تنظیم یوئیفا نے بھی فیفا کے فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے جبکہ فیفا نے بیلجیئم کی وضاحت طلب کرنے کی درخواست کو ناقابل سماعت قرار دے دیا۔

متعلقہ مضامین

  • میں نے اپنی قبر تیار کروا رکھی ہے، لیجنڈ گلوکار عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کا انکشاف
  • فیفا ورلڈکپ: ٹرمپ کی مداخلت پر فیصلہ تبدیل، ناروے کا فیفا کیخلاف بڑا اقدام اٹھانے کا فیصلہ
  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • جیفری ایپسٹین کیس سے جڑے معروف نام ڈینیئل سیاد کی فرانس میں پراسرار موت