ایم کیو ایم کے الزامات بے بنیاد، کراچی کو نعروں نہیں عملی خدمت کی ضرورت ہے، سعدیہ جاوید
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
ایک بیان میں ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ اگر کراچی کا درد ہے تو کے-فور منصوبے کے لیے وفاق سے فنڈز لے کر آئیں، فاروق ستار سمیت بعض رہنما اپنی سیاست کے بجائے دوسروں کی محنت کو اپنا ظاہر کرنے پر اکتفا کر رہے ہیں، جو کراچی کے مسائل کا حل نہیں بلکہ رکاوٹ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید نے ایم کیو ایم رہنماؤں کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کی سیاسی حقیقت سب کے سامنے ہے، جھوٹے مینڈیٹ پر سیاست زیادہ دیر نہیں چل سکتی۔ انہوں نے کہا کہ جن کا ماضی منفی سیاست اور دباؤ کی روایت سے جڑا ہو اور مستقبل بھی دوسروں پر انحصار کرتا ہو، ان کے دعوے وزن نہیں رکھتے، گزشتہ دس سال سے وفاقی حکومت کا حصہ رہنے کے باوجود کراچی کے لیے کوئی عملی خدمت سامنے نہیں آسکی، یہ سوال آج بھی موجود ہے۔ سعدیہ جاوید کا کہنا تھا کہ ان کی سیاست ہمیشہ نعروں اور بیانات تک محدود رہی ہے، عملی کارکردگی دکھائی نہیں دیتی، اگر اب فنڈز ریلیز ہوئے ہیں تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ برسوں تک کراچی کو نظر انداز کیا گیا۔
ترجمان نے کہا کہ قانون اور اصولوں پر عمل کیے بغیر سیاست کرنا مسئلے کا حل نہیں، کراچی کو حقیقی خدمت کی ضرورت ہے، سندھ حکومت اپنے منصوبے مکمل کرے گی چاہے کوئی شور مچائے یا تنقید کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر کراچی کا درد ہے تو کے-فور منصوبے کے لیے وفاق سے فنڈز لے کر آئیں، فاروق ستار سمیت بعض رہنما اپنی سیاست کے بجائے دوسروں کی محنت کو اپنا ظاہر کرنے پر اکتفا کر رہے ہیں، جو کراچی کے مسائل کا حل نہیں بلکہ رکاوٹ ہے۔ سعدیہ جاوید نے نشاندہی کی کہ سات سال بعد منصوبہ شروع ہو اور آج تک مکمل نہ ہو تو یہ عوام کے ساتھ ناانصافی ہے، پی آئی ڈی سی ایل کسی اور ادارے کے این او سی پر کام نہیں کر سکتی، یہ قانون کے خلاف ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سعدیہ جاوید کہا کہ ایم کی
پڑھیں:
سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
اٹلی میں مبینہ طور پر چار پاکستانی کسانوں(Pakistani farmers) کے لرزہ خیز قتل کے واقعے پر ترجمان دفتر خارجہ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنوبی اٹلی میں جلائی گئی ایک وین سے چار افراد کی لاشیں ملی ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ابتدائی اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جاں بحق افراد پاکستانی نژاد ہو سکتے ہیں، تاہم اس مرحلے پر ان کی شہریت کی حتمی تصدیق نہیں ہو سکی۔
دفتر خارجہ کے مطابق مقامی پولیس واقعے کی مکمل تحقیقات کر رہی ہے تاکہ حقائق سامنے لائے جا سکیں۔
مزید پڑھیں:کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع
ترجمان نے مزید بتایا کہ اٹلی میں پاکستانی سفارتخانہ مقامی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے ۔