کراچی: 7 سالہ بچے کو زیادتی کے بعد قتل کرنیوالے ملزمان کا بیان سامنے آ گیا
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
—فائل فوٹو
کراچی کے علاقے لانڈھی میں 7 سال کے بچے کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے ملزمان کا بیان منظرِ عام پر آ گیا، دونوں ملزمان نے جرم کا اعتراف کر لیا ہے۔
2 روز قبل لانڈھی 36 بی کی کچرا کنڈی سے 7 سال کے سعد کی لاش ملی تھی، پولیس ابتدائی تحقیقات کے بعد جلد ہی حقائق تک پہنچی اور 2 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔
ملزمان کی جانب سے پولیس کو دیا گیا ویڈیو بیان ’جیو نیوز‘ نے حاصل کر لیا ہے جس میں ملزمان نے ناصرف جرم کا اعتراف کیا ہے بلکہ یہ تفصیل بھی بتائی ہے کہ انہوں نے کس سفاکی کے ساتھ اس جرم کا ارتکاب کیا۔
ملزم سہیل نے اپنے اعترافی بیان میں بتایا ہے کہ زیادتی اور قتل کے بعد کس طرح دونوں نے مل کر 7 سال کے سعد کو ٹھکانے لگایا۔
پولیس سرجن کے مطابق بچے سے زیادتی کے شواہد ملے ہیں، موت سر پر وزنی چیز سے چوٹ لگنے کے باعث ہوئی۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم نے بچے کو 18 ستمبر کو اغواء کیا اور زیادتی کے بعد قتل تک کی واردات 2 گھنٹوں میں انجام دی۔
پولیس نے والدین کی جانب سے گمشدگی کا مقدمہ درج کرواتے ہی علاقے میں ایسے افراد کی معلومات جمع کرنا شروع کر دی تھی جو اپنے گھروں میں اکیلے رہ رہے ہوں۔
اس دوران اس باڑے کی نشاندہی بھی ہوئی جس میں مرکزی ملزم حسن اکیلا رہتا تھا، جبکہ بچے کی تلاش کے دوران اس کی لاش کی نشاندہی بھی دونوں مرکزی ملزمان نے ہی کی تھی۔
پولیس کے مطابق مقتول بچہ 18 ستمبر کو لانڈھی تھانے کی حدود بی ایریا نزد گوشت مارکیٹ سے لاپتہ ہوا تھا جس کی گمشدگی کا مقدمہ لانڈھی تھانے میں درج کیا گیا تھا۔
بچے کے والد کا کہنا تھا کہ مقتول سعد ان کا اکلوتا بیٹا تھا اور چند روز قبل بچے کا اسکول میں ایڈمیشن کروایا تھا، جس روز سعد لاپتہ ہوا میں اسے اسکول اور پھر ٹیوشن سے لے کر آیا تھا، بچہ گھر سے 20 روپے لے کر چیز لینے نکلا تھا اس کے بعد سے لاپتہ تھا، 5 روز سے ہم مسلسل اسے تلاش کرتے رہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔