گولارچی ،شراب خانے کے قیام کیخلاف عوام سراپا احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
گولارچی (نمائندہ جسارت) گولارچی میں شراب خانے کے قیام کے خلاف عوامی ردعمل شدت اختیار کر گیا۔ علما ایکشن کمیٹی، تاجر الائنس اور شہریوں کی جانب سے پرامن احتجاجی ریلی نکالی گئی، جس میں بڑی تعداد میں عوام، طلبہ، معززین شہر اور مختلف سماجی تنظیموں کے نمائندوں نے بھرپور شرکت کی۔ ریلی جامع مدینہ مسجد سے نکالی گئی جو شہر کے اہم راستوں سے گزرتی ہوئی شہید فاضل راھو چوک پر اختتام پذیر ہوئی۔ شرکا نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر شراب خانے کے خلاف نعرے درج تھے، جبکہ شرکا مسلسل “شراب خانے بند کرو” اور “اسلامی اقدار کا تحفظ کرو” کے نعرے لگاتے رہے۔جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے علماکرام، تاجر رہنماؤں اور مقررین نے کہا کہ گولارچی جیسے اسلامی اور پرامن شہر میں شراب خانے کا قیام کسی صورت قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ شراب نوشی معاشرے کی تباہی اور بگاڑ کا سبب بنتی ہے، یہ نہ صرف دین اسلام بلکہ ملکی قوانین کے بھی خلاف ہے۔ مقررین نے خبردار کیا کہ اگر شراب خانے کو فی الفور بند نہ کیا گیا تو احتجاجی تحریک کو مزید وسعت دی جائے گی اور ضلعی ہیڈ کوارٹر سمیت صوبائی سطح پر بھی دھرنے دیے جائیں گے۔علما ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں نے کہا کہ ہم پرامن جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں لیکن عوام کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے والے کسی بھی اقدام کو برداشت نہیں کریں گے۔ تاجر رہنماؤں نے کہا کہ شراب خانہ نوجوان نسل کو بربادی کی طرف دھکیلنے کی سازش ہے، جسے ہرگز کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نے کہا کہ
پڑھیں:
قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، جج آئینی عدالت
وفاقی آئینی عدالت میں اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز نظرثانی درخواست پر سماعت ہوئی، عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کردیے۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ وکیل درخواست گزار نے جواب دیا کہ عدالت نے کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا، ماریہ شہباز کم عمر ہے اسے ورغلا کر مذہب تبدیلی کرائی گئی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ عمر کم بھی ہو تو ایک شادی اگر ہوجائے تو قانون میں اس کا حل کیا ہے؟ وکیل درخواست گزار نے جواب دیا کہ شادی کیلئے 18 سال کی عمر کا قانون ہے، قانون کی خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، بچی نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے آئینی عدالت تک کہیں نہیں کہا کہ اس کیساتھ زبردستی ہوئی،
آپ کا اسرار ہے تو اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل سے معاونت لے لیتے ہیں۔
عدالت نے مقدمہ کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی، جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سماعت کی۔
آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کی والد کو حوالگی کی درخواست خارج کی تھی، عدالت نے قرار دیا تھا کہ بچی کے تنسیخ نکاح کیلئے سول کورٹ سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق حبس بیجا اور حوالگی کے کیس میں تنسیخ نکاح کی کارروائی نہیں ہوسکتی