قطر کی محنت سے ایک اور امریکی شہری 10 ماہ بعد طالبان کی قید سے رہا
اشاعت کی تاریخ: 29th, September 2025 GMT
قطر کی محنت سے ایک اور امریکی شہری 10 ماہ بعد طالبان کی قید سے رہا WhatsAppFacebookTwitter 0 29 September, 2025 سب نیوز
افغانستان کی طالبان حکومت نے ایک اور امریکی شہری کو رہا کر دیا ہے۔ امریکی حکومت کے مطابق یہ رہائی اتوار کے روز واشنگٹن کے خصوصی ایلچی برائے یرغمالیوں ایڈم بوہلر کے دورے کے بعد عمل میں آئی۔
خبر رساں ایجنسی ”رائٹرز“ نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ رہائی پانے والے شہری کی شناخت عامر امیری کے نام سے ہوئی ہے، جو دسمبر 2024 سے افغانستان میں قید تھے۔ انہیں قطری ثالثی کے ذریعے رہا کیا گیا اور اتوار کی شام وہ دوحہ روانہ ہو گئے۔
ذرائع کے مطابق قطر کی ثالثی سے رواں سال طالبان کی قید سے رہا ہونے والے امریکی شہریوں کی تعداد پانچ ہو گئی ہے۔ ان کے علاوہ آٹھ ماہ تک زیر حراست رہنے والا ایک برطانوی جوڑا بھی رہا ہو چکا ہے۔
دسمبر 2024 سے افغانستان میں قید عامر امیری کابل ایئرپورٹ پر طیارے میں سوار ہونے سے قبل امریکی خصوصی ایلچی برائے یرغمالیوں کے معاملات ایڈم بوہلر، امریکی صدر کے ڈپٹی اسسٹنٹ اور انسدادِ دہشت گردی کے سینئر ڈائریکٹر سباسٹین گورکا، قطری سفارتکاروں اور دیگر افراد کے ساتھ تصویر کے لیے پوز دیتے ہوئے (تصویر: رائٹرز)
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایک بیان میں عامر امیری کی رہائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ’میں قطر کا شکریہ ادا کرتا ہوں جس نے ان کی آزادی ممکن بنائی۔ صدر نے واضح کر دیا ہے کہ جب تک ہر وہ امریکی جو غیر قانونی طور پر بیرون ملک قید ہے واپس نہیں آ جاتا، ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے۔‘
ادھر ایک اور زیر حراست امریکی احمد حبیبی کے بھائی محمود حبیبی نے کہا ہے کہ حکومت نے انہیں بارہا یقین دہانی کرائی ہے کہ طالبان کے ساتھ کسی بھی معاہدے میں ”سب یا کوئی نہیں“ کی پالیسی پر عمل ہوگا اور احمد حبیبی کو پیچھے نہیں چھوڑا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا، ’بائیڈن انتظامیہ نے ہمارے لیے کچھ نہیں کیا۔ ہمیں صدر ٹرمپ پر اعتماد ہے۔‘
تاہم ، طالبان حکومت کی جانب سے احمد حبیبی کی گرفتاری کی تردید کی گئی ہے۔ وہ ماضی میں افغانستان کی سول ایوی ایشن کے سربراہ رہ چکے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرآزاد کشمیر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال اور مظاہرے، سب کچھ بند: مطالبات کیا ہیں؟ آزاد کشمیر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال اور مظاہرے، سب کچھ بند: مطالبات کیا ہیں؟ چین نے دنیا میں سب سے بڑا آبی انفراسٹرکچر سسٹم قائم کیا صدر ٹرمپ نے پاکستان کے ساتھ اقتصادی و تجارتی تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے، وزیراعظم نیتن یاہو کی یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے حماس کو معافی اور محفوظ راستہ دینے کی پیشکش ایشیاکپ جیتنے والی بھارتی ٹیم پر نوٹوں کی برسات، کتنی رقم دی جائیگی؟ سعودی عرب کے بعد کئی ممالک پاکستان سے دفاعی معاہدے کے خواہشمند ہیں، اسحاق ڈارCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: امریکی شہری ایک اور
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔