قومی ایئر لائن کی 30 ستمبر سے ٹورنٹو کیلئے پروازیں دوبارہ شروع
اشاعت کی تاریخ: 29th, September 2025 GMT
قومی ایئر لائن 30 ستمبر سے کینیڈا کے شہر ٹورنٹو کیلئے اپنی پروازیں دوبارہ شروع کر رہی ہے، ترجمان پی آئی اے نے پروازوں کی بحالی کی تصدیق کی ہے۔
قومی ایئر لائن نے ٹورنٹو کینیڈا کیلئے اپنی تمام پروازیں 13 سے 28 ستمبر تک معطل کر دی تھیں، اس کی وجہ طیاروں کی کمی اور فاضل پرزہ جات کی عدم فراہمی بتائی گئی تھی۔
متعلقہ ذرائع کے مطابق ایئر لائن ٹورنٹو کیلئے پاکستان سے طویل فاصلے کی براہ راست اور نان اسٹاپ فلائٹس بوئنگ 777 ایل آر یعنی لانگ رینج طیاروں کے ذریعے آپریٹ کی جاتی ہیں، لیکن اس وقت تک ایئر لائن کے دونوں بوئنگ 777 ایل آر طیارے گراؤنڈ ہیں۔
ذرائع کے مطابق ایک بوئنگ 777 ایل آر طیارے کے لینڈنگ گیئرز تبدیل ہونے ہیں، نئے لینڈنگ گیئر شعبہ انجینئرنگ کو مل گئے ہیں لیکن مطلوبہ ٹولز نہ ہونے کی وجہ سے یہ لینڈنگ گیئرز بروقت طیارے میں نہیں لگ سکے ہیں۔
اس لیے ٹورنٹو کی پرواز اب بوئنگ 777، 300 ای آر طیارے کے ذریعہ آپریٹ کی جائے گی۔ قومی ایئر لائن کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ 30 ستمبر کو پی کے 783 کراچی سے ٹورنٹو کیلئے روانہ ہوگی۔
اس موقع پر قومی ایئر لائن نے ٹورنٹو کیلئے ٹکٹ پر 15 فیصد رعایت کا اعلان بھی کیا ہے۔ رعایتی ٹکٹ 10 اکتوبر تک دستیاب ہوں گے اور ان پر 30 ستمبر سے 19 دسمبر تک سفر کیا جا سکے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: قومی ایئر لائن ٹورنٹو کیلئے ٹورنٹو کی
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔