صحافیوں کا قومی اسمبلی اجلاس سے واک آؤٹ، وجہ کیا بنی؟
اشاعت کی تاریخ: 29th, September 2025 GMT
پارلیمنٹیری رپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان (پی آر اے) نے قومی اسمبلی پریس گیلری سے واک آؤٹ کیا ہے۔
پی آر اے یہ اقدام پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان نے اڈیالہ جیل میں پی آر اے کی الیکشن کمیٹی کے تحت ایک سینئر صحافی اعجاز احمد کے سوال کے جواب میں نامناسب الفاظ اور گالم گلوچ استعمال کے خلاف بطور احتجاج اٹھایا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گنڈاپور کے نازیبا القابات: صحافیوں کا واک آؤٹ اور ایوان واپسی
واک آؤٹ کے دوران صحافیوں نے مؤقف اپنایا کہ ایسے رویے سے نہ صرف صحافیوں کی تضحیک ہوئی ہے بلکہ پارلیمانی اقدار بھی مجروح ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کے ساتھ شائستہ اور باوقار رویہ اختیار کرنا ضروری ہے تاکہ آزاد اور ذمہ دار صحافت کے فروغ کی راہ ہموار ہو سکے۔
اس موقع پر اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے صحافیوں کے احتجاج کا نوٹس لیتے ہوئے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کو ہدایت دی کہ وہ پی آر اے نمائندوں سے بات کریں اور معاملے کو خوش اسلوبی سے حل کریں۔
یہ بھی پڑھیں: پیکا ایکٹ 2025 ترمیمی بل منظور، صحافتی تنظیموں کو کیا اعتراضات ہیں؟
اسپیکر نے یقین دہانی کرائی کہ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ صحافیوں کے مسائل اور تحفظات کے حل کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا اور میڈیا کے ساتھ خوشگوار تعلقات کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اعجاز احمد بدتمیزی پارلیمینٹری رپورٹرز صحافی عمران خان قومی اسمبلی اجلاس واک آؤٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پارلیمینٹری رپورٹرز صحافی قومی اسمبلی اجلاس واک ا ؤٹ قومی اسمبلی
پڑھیں:
پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔