ایف بی آر کا ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع نہ کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 29th, September 2025 GMT
ایف بی آر کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی آخری تاریخ میں توسیع نہیں ہوگی تاہم شدید مجبوری کی صورت میں کمیٹی کی منظوری سے ٹیکس دہندگان زیادہ سے زیادہ 15 روز کی توسیع حاصل کر سکتے ہیں بشرطیکہ واجب الادا ٹیکس 30 ستمبر 2025ء تک جمع کرا دیا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ فیدرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی آخری تاریخ میں توسیع نہ کرنے کا اعلان کر دیا۔ ایف بی آر کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی آخری تاریخ میں توسیع نہیں ہوگی تاہم شدید مجبوری کی صورت میں کمیٹی کی منظوری سے ٹیکس دہندگان زیادہ سے زیادہ 15 روز کی توسیع حاصل کر سکتے ہیں بشرطیکہ واجب الادا ٹیکس 30 ستمبر 2025ء تک جمع کرا دیا جائے۔
اعلامیہ کے مطابق یہ خبریں بھی غلط ہیں کہ آئی آر ایس سسٹم سست روی کا شکار ہے، ایف بی آر کا آئی آر ایس پلیٹ فارم مکمل طور پر فعال ہے اور سسٹم بلاتعطل کام کر رہا ہے، نئے سادہ انکم ٹیکس ریٹرن فارم کے ذریعے آسانی سے ریٹرن جمع کرائے جا سکتے ہیں۔ اعلامیہ میں مزید کہا گیا کہ آخری تاریخ تک ریٹرن جمع نہ کرانے پر لیٹ فائلر کا درجہ دیا جائے گا اور قانون کے تحت جرمانے عائد ہوں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع آخری تاریخ ایف بی آر
پڑھیں:
مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی آموں کی خوشبو اور مٹھاس ہر طرف پھیل جاتی ہے، اور بازاروں، ریڑھیوں اور گھروں میں مختلف اقسام کے آم اپنی رنگینی بکھیرنے لگتے ہیں۔
پاکستان میں آم کی کئی مشہور اقسام پائی جاتی ہیں جن میں دسہری، کیسر، چونسہ اور سندھ کے بعض علاقوں میں محدود پیمانے پر کاشت ہونے والا الفانسو آم شامل ہے، جسے عام طور پر ’الفنس‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
آم کو صرف ایک پھل نہیں بلکہ گرمیوں کی پہچان سمجھا جاتا ہے، اسی لیے اس موسم میں اس سے آئس کریم، میٹھے پکوان، آم رس، سلاد اور مختلف مشروبات تیار کیے جاتے ہیں۔ تاہم ٹھنڈا اور گاڑھا مینگو شیک آج بھی سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے مشروبات میں شمار ہوتا ہے، اور اکثر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ آخر مینگو شیک کے لیے بہترین آم کون سا ہے؟
ماہرین اور شوقین افراد کے مطابق الفانسو آم مینگو شیک کے لیے بہترین انتخاب سمجھا جاتا ہے۔ اس کی گودے دار ساخت قدرتی طور پر کریمی ہوتی ہے، اس میں ریشہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے اور اس کی مٹھاس دودھ کے ساتھ بخوبی گھل جاتی ہے، جس سے شیک ہموار اور ملائم بنتا ہے۔ بعض آم بلینڈ کرنے کے بعد ریشے دار محسوس ہوتے ہیں، لیکن الفانسو شیک کو ایک یکساں اور کریمی ساخت دیتا ہے۔
الفانسو آم کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کی خوشبو ہے، جو سادہ دودھ کے شیک کو بھی ایک خاص ذائقہ اور مہک عطا کرتی ہے۔ چونکہ یہ قدرتی طور پر بہت میٹھا ہوتا ہے، اس لیے اکثر افراد اس میں اضافی چینی ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر آم مینگو شیک کے لیے یکساں طور پر موزوں نہیں ہوتا۔ ایک اچھے شیک کے لیے ایسے آم کا انتخاب بہتر ہے جس میں ریشہ کم ہو، گودا قدرتی طور پر میٹھا اور خوشبودار ہو، ساخت گاڑھی اور کریمی ہو، جبکہ گٹھلی چھوٹی اور گودا زیادہ ہو۔
الفانسو کے علاوہ کیسر آم بھی ایک اچھا انتخاب سمجھا جاتا ہے، جو اپنے شوخ نارنجی گودے اور بھرپور مٹھاس کے باعث گاڑھا اور لذیذ شیک تیار کرتا ہے۔ اسی طرح دسہری آم اپنی خوشبو اور رس دار خصوصیات کی وجہ سے ہلکے اور تازگی بخش شیک کے لیے موزوں مانا جاتا ہے۔
ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ بہت زیادہ پکے ہوئے آم استعمال نہ کیے جائیں، کیونکہ اگرچہ وہ زیادہ میٹھے ہوتے ہیں لیکن بعض اوقات ان میں خمیر جیسی بو پیدا ہو سکتی ہے جو شیک کے ذائقے کو متاثر کرتی ہے۔
گھر میں بہترین مینگو شیک بنانے کے لیے چند آسان طریقے بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ آموں کو استعمال سے پہلے ٹھنڈا کر لیا جائے تو برف کی ضرورت کم ہو جاتی ہے، جبکہ مکمل چکنائی والے ٹھنڈے دودھ سے شیک زیادہ کریمی بنتا ہے۔ آم کے ٹکڑوں کو فریز کر کے استعمال کرنے سے شیک مزید گاڑھا ہو جاتا ہے، اور ذائقے میں بہتری کے لیے ہلکی سی الائچی یا زعفران بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ضرورت سے زیادہ بلینڈنگ سے شیک پتلا بھی ہو سکتا ہے، اس لیے اسے مناسب وقت تک ہی بلینڈ کرنا بہتر سمجھا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ گرمیوں میں بہترین مینگو شیک کا راز صرف ترکیب میں نہیں بلکہ صحیح آم کے انتخاب میں بھی چھپا ہوتا ہے۔