سکھر،لوکل باڈیز اینڈ ڈسٹرکٹ کو آرڈینیٹر کمیٹی کا اجلاس
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سکھر(نمائندہ جسارت) لوکل باڈیز اینڈ ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کا اجلاس منعقد بوا جس کی صدارت ایوان صنعت و تجارت سکھر خالد کاکیزائی نے کی اور اس میں لوکل باڈیز اینڈ ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کے کنوینر ملک محمد رضوان الحق و ممبران نے اے ڈی بی میں کونسے منصوبے پیش کیے جائیں تجاویز لیں۔ سکھر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دورے کے موقع پر ڈپٹی کمشنر سکھر نادر شہزاد خان نے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ شہر کی تعمیر و ترقی کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے ڈویلپمنٹ کمیٹی میں سکھر چیمبر کے نامزد اراکین کو شامل کرکے اسے باضابطہ نوٹیفائی کیا جائے گا، تاکہ وہ اے ڈی بی کے لیے باقاعدگی سے تجاویز فراہم کرتے رہیں۔ ڈی سی سکھر نے کہا کہ سول اسپتال کی توسیع، مال گودام پر پارکنگ کا قیام، چھوہارہ مارکیٹ اور بڑی سبزی منڈی میں بنیادی سہولیات کی فراہمی، گولیمار صنعتی زون کی باؤنڈری وال کی تعمیر، رشید پارک میں پیڈل کورٹ کی تعمیر، کیمیکل والے دودھ کی پابندی کے لیے سندھ فوڈ اتھارٹی سے ذاتی طور پر ملاقات، ٹراما سینٹر کی فعالی،، برن سینٹر، فوڈ اسٹریٹ، اولپرز روڈ پر ایس آئی یو ٹی کو سکھر چیمبر کی عطیہ کردہ زمین پر ہیلتھ کی سہولیات کی فراہمی سمیت دیگر منصوبے اے ڈی بی میں شامل کیے جائیں گے اورنوجوانوں کو منفی سرگرمیوں سے بچانے کیلئے اسپورٹس کے فروغ اور سکھر کی تعمیر و ترقی کیلئے دیگر منصوبے رکھے جائیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کی تعمیر
پڑھیں:
وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
اسلام آباد،وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال (mustafa kamal)نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔
اس سلسلے میں ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔منگل کو جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
پہلی بار ملک میں ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، جس سے جعلی، غیر معیاری اور نقلی ادویات کی مؤثر نشاندہی اور ان کے خاتمے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ نئے نظام کے نفاذ کے بعد عام صارفین باآسانی دوا کی میعادِ استعمال، قیمت اور دیگر اہم معلومات کی مستند تصدیق کر سکیں گے، جس سے عوام کا ادویات کے نظام پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی۔ نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں۔
وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ اہم اقدام پاکستان میں ادویات کی سپلائی چین کو محفوظ، شفاف اور معیاری بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
حکومت ادویات کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں خطے کے نمایاں ممالک میں شامل ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گاجس سے عوام کی صحت، زندگی اور اعتماد کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے گا۔
مزید پڑھیں:میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
وفاقی وزیرِ صحت کے مطابق ڈریپ کی جانب سے صنعت کو سہولت فراہم کرنے کے لیے جلد تکنیکی رہنما اصول جاری کیے جائیں گے، جبکہ متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورتی اجلاس بھی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ نظام کے مؤثر اور مرحلہ وار نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔