شہباز شریف کا ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ جنگ بندی منصوبے کا خیر مقدم
اشاعت کی تاریخ: 29th, September 2025 GMT
وزیراعظم نے سماجی روابط کی ویب سائٹ "ایکس" پر جاری پیغام میں کہا کہ امریکی صدر کے غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے 20 نکاتی منصوبے کا خیر مقدم کرتا ہوں، خطے میں فلسطینی عوام اور اسرائیل کے درمیان دیرپا امن سیاسی استحکام کے لیے ضروری ہوگا۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے منصوبے کا خیر مقدم کیا گیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے سماجی روابط کی ویب سائٹ "ایکس" پر جاری پیغام میں کہا کہ صدر ٹرمپ کے غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے 20 نکاتی منصوبے کا خیر مقدم کرتا ہوں، خطے میں فلسطینی عوام اور اسرائیل کے درمیان دیرپا امن سیاسی استحکام کے لیے ضروری ہوگا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ فلسطینی عوام اور اسرائیل کے درمیان دیرپا امن خطے کی معاشی ترقی کے لیے ضروری ہوگا، یقین ہے صدر ٹرمپ اس معاملے کو حقیقت میں بدلنے میں مدد کے لیے مکمل تیار ہیں، میں صدر ٹرمپ کی قیادت اور جنگ کے خاتمے کے لیے خصوصی نمائندے کے کردار کو سراہتا ہوں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ میرا پختہ یقین ہے خطے میں دیرپا امن یقینی بنانے کے لیے 2 ریاستی تجویز پر عمل درآمد ضروری ہے۔ خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر مسلم ممالک کے سربراہان سے ملاقات کی تھی جس میں غزہ میں جنگ بندی کے حوالے سے منصوبہ پیش کیا گیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: وزیراعظم شہباز شریف جنگ کے خاتمے کے لیے منصوبے کا خیر مقدم کے غزہ جنگ دیرپا امن کہا کہ
پڑھیں:
ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
وفاقی آئینی عدالت نے اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز سے متعلق نظرثانی درخواست پر وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے معاونت طلب کر لی، جبکہ مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔ دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ماریہ شہباز کم عمر تھی اور اسے ورغلا کر مذہب تبدیل کروایا گیا، جبکہ عدالت نے اپنے سابق فیصلے میں کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں لاپتا لڑکیوں میں سے 80 فیصد نے پسند کی شادیاں کیں، پولیس کی لاہور ہائیکورٹ کو رپورٹ
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ سابق عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ درخواست گزار کے وکیل نے جواب دیا کہ قانون کے مطابق شادی کے لیے 18 سال عمر کی حد مقرر ہے اور قانون کے خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔
اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی پر سزا کا ذکر تو موجود ہے، تاہم نکاح کو خودکار طور پر منسوخ قرار دینے کی کوئی شق موجود نہیں۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر کم عمری میں شادی ہو جائے تو قانون اس صورت حال کا کیا حل فراہم کرتا ہے۔
عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ ماریہ شہباز نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے لے کر وفاقی آئینی عدالت تک کسی بھی مرحلے پر یہ مؤقف اختیار نہیں کیا کہ اس کے ساتھ زبردستی کی گئی تھی۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ اگر درخواست گزار اس مؤقف پر اصرار کرتا ہے تو عدالت اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے قانونی معاونت حاصل کر لیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پسند کی شادی کیخلاف گاؤں نذرِ آتش کرنیکا واقعہ، وزیراعلیٰ سندھ کا سخت نوٹس
عدالت نے سماعت کے دوران وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ وفاقی آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کو والد کے حوالے کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ تنسیخ نکاح کے لیے متعلقہ فریق سول کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ حبسِ بے جا اور حوالگی کی درخواستوں کی سماعت کے دوران نکاح کی تنسیخ کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چائلڈ میرج قبول اسلام ماریہ شہباز وفاقی آئینی عدالت