محرابپور،صحافی امتیاز میر کے قتل ،کاشف کمبوہ پر جھوٹے مقدمے کیخلاف احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
250930-11-1
محراب پور(جسارت نیوز)صحافی امتیاز میر کے قتل ،صحافی کاشف کمبوہ پر سیپکو کے جھوٹے مقدمہ کیخلاف محراب پور اور نوشہرو فیروز میں صحافی برادری سراپا احتجاج،صدر محراب پور پریس کلب منور احمدملک،صدر نیشنل پریس کلب نعمان عرف مانی مغل نے حتجاج سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صحافی میر امتیاز کا قتل، نوجوان صحافی کاشف کمبوہ پر سیپکو کا جھوٹا مقدمہ حق و سچ دبانے اور سندھ کے شعور کا قتل ہے ، صحافی امتیاز میر کے قاتلوں کوگرفتار کرکے عبرتناک سزا دی اور صحافی کاشف کمبوہ پر داخل مقدمہ 150/2025 خارج کیا جائے ،نوشہرو فیروز میں سندھ جرنلسٹس کونسل کے مرکزی صدر قاضی ذوالفقار، پریس کلب کے صدر محمد یونس راجپرنے احتجاجی مظاہرے سے خطاب میں کہا کہ سندھ میں صحافیوں کو قتل کرکے حق و انصاف کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے جمہوریت اور آزادی صحافت کے دعوے کرنے والے حکمران خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں، جو بھی سچ بولے گا اسے اسی طرح مارا جائے گا ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کاشف کمبوہ پر
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔