قومی نوجوان روزگار ’’ نیشنل یوتھ ایمپلائمنٹ ‘‘پالیسی کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
250930-08-18
لاہور (نمائندہ جسارت) وزیراعظم نوجوان پروگرام (پرائم منسٹر یوتھ پروگرام) کے کوارڈی نیٹر رانا مشہود احمد خان نے قومی نوجوان روز گار( نیشنل یوتھ ایمپلائمنٹ )پالیسی کا اعلان کردیا جس کے تحت ملک کے لاکھوں نوجوانوں کو ملکی و غیر ملکی سطح پر روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ایوان اقبال لاہور میں نیشنل یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی پر رانا مشہود احمد خان کا پریس کانفرنس کے دوران کہنا تھا کہ نیشنل یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی کے تحت تعلیم یافتہ اور غیر تعلیم یافتہ تمام نوجوانوں کو اپنی زندگی بنانے کا موقع دیا جائے گا،2029ء تک خواتین کو بھی روزگار پروگرام میں شامل کر لیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی ہر اس نوجوان کے لیے ہے جو اسکول، کالج، یونیورسٹی میں پڑھ رہا ہے یا تعلیم یافتہ نہیں ہے، ان سب کو مواقع دیے جائیں گے۔رانا مشہود احمد خان کا کہنا تھا کہ اگلے 3 سال میں 7 لاکھ 80 ہزار نوجوان جاپان،1 لاکھ 25 ہزار سائوتھ کوریا جبکہ سعودی عرب اور قطر میں 20لاکھ نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ اب تک 8لاکھ نوجوانوں کو بیرون ملک بھیجا جا چکا ہے اور دسمبر تک 10لاکھ کا ہدف پورا کریں گے جب کہ نوجوانوں کو ایگری کلچر، ٹورازم اور گرین جابز کے شعبے میں بھی آگے لایا جائے گا اور10نئے بزنس رجسٹرڈ کیے جائیں گے۔ان کاکہنا تھا کہ اوورسیز پاکستانیوں کو روزگار ملنے پر10 لاکھ روپے کا بلا سود قرض دیا جائے گا اور ہم میرٹ پر نوجوانوں کو روزگار دیں گے جبکہ سہولت کسی جماعت کے لیے نہیں بلکہ سب پاکستانیوں کے لیے ہے۔ رانا مشہود نے کہا کہ آج پاکستان کا تاریخی دن ہے، جس میں نیشنل یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی سے نوجوانوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کا آغاز کر دیا گیا ہے۔45
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نوجوانوں کو رانا مشہود جائیں گے جائے گا
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔