لاہور:

پولیس نے میو اسپتال سے اغوا ہونے والی بچی کو بحفاظت بازیاب کرکے خاتون ملزمہ کو گرفتار کرلیا۔

ایس ایس پی انویسٹی گیشن محمد نوید نے دو دن کی معصوم بچی کے اغواء کا فوری نوٹس لیا تھا جس کے بعد ایس پی انویسٹی گیشن سٹی کی سربراہی میں بچی کی بازیابی کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئیں۔

انچارج انویسٹی گیشن اور ایس ایچ او تھانہ گوالمنڈی نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے خاتون ملزمہ رابعہ کو گرفتار کر کے بچی کو بحفاظت بازیاب کروا لیا۔ ملزمہ چند روز قبل میو اسپتال کے بچہ وارڈ سے بچی کو اغواء کر کے لے گئی تھی۔

ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا کہ ملزمہ نے لوگوں کو دکھانے کے لیے بچی کو اغواء کیا۔ ملزمہ کی مدد سی سی ٹی وی کیمروں اور ہیومن انٹیلیجنس کے ذریعے حاصل کی گئی معلومات سے ہوئی۔ ایس پی فرحت عباس نے کہا کہ بچی کی بازیابی پر والدین نے پولیس ٹیم کا شکریہ ادا کیا اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

ایس ایس پی محمد نوید نے کہا کہ آپریشن اور انویسٹی گیشن پولیس کی مشترکہ ٹیموں کی محنت کا نتیجہ ہے، اور ملزمہ کو مضبوط چالان کے بعد قانونی کارروائی کے تحت سزا دی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ معصوم بچوں کے اغواء کے عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔

ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سید ذیشان رضا نے پولیس ٹیم کے لیے تعریفی اسناد کا اعلان بھی کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: انویسٹی گیشن بچی کو ایس پی

پڑھیں:

اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار

روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔

(جاری ہے)

بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔

معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔

بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی: بھینس کالونی میں شادی کی تقریب میں ہوائی فائرنگ، دلہا گرفتار
  • پشاور: پسند کی شادی کیلئے گھر سے نکلنے والی لڑکی اور لڑکا قتل
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 6 زخمیوں سمیت 9 ڈاکو گرفتار
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • اوباڑو : تیز آندھی اور بارش کے باعث مختلف حادثات میں 50 کے قریب افراد زخمی
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار