جنوبی بلوچستان ورکنگ کمیٹی کے اراکین علامہ ظفر عباس شمسی اور سہیل اکبر شیرازی نے کہا کہ تنظیم کو فعال بنانے کیلئے گراس روٹ لیول پر جدوجہد ناگزیر ہے۔ جنوبی بلوچستان کے ہر گاؤں اور تحصیل میں تنظیم کو فعال اور مؤثر بنایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین جنوبی بلوچستان کی ورکنگ کمیٹی کے اراکین علامہ سید ظفر عباس شمسی اور علامہ سہیل اکبر شیرازی کے ضلع بولان کی تحصیل ڈھاڈر کے تنظیمی دورے کے موقع پر اجلاس کا انعقاد کیا گیا، جس میں مجلس علماء مکتب اہلبیت بلوچستان کے جنرل سیکرٹری علامہ ذوالفقار علی سعیدی، نائب صدر ضلع بولان سید مشتاق شاہ دوپاسی اور کارکنان سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ اجلاس میں ضلع بولان کی ورکنگ کمیٹی  تشکیل دی گئی۔ جس میں سید انور شاہ دوپاسی، سید مشتاق شاہ دوپاسی، قاضی جمیل احمد انصاری اور پروز احمد چھلگری شامل ہیں۔ محلہ سادات کے یونٹ کی نئی کابینہ بھی تشکیل دی گئی۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے علامہ سید ظفر عباس شمسی نے کہا کہ تنظیم کو فعال بنانے کے لئے گراس روٹ لیول پر جدوجہد ناگزیر ہے اور نوجوانوں کو صف اول میں لانا وقت کی ضرورت ہے۔ علامہ سہیل اکبر شیرازی نے نو منتخب کابینہ کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی بلوچستان کے ہر گاؤں اور تحصیل میں تنظیم کو فعال اور مؤثر بنایا جائے گا۔ اس موقع پر اجلاس میں موجود تمام کارکنوں نے صوبائی و مرکزی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے جدوجہد میں شامل ہونے کا عزم ظاہر کیا۔ اجلاس کا اختتام دعا اور تجدید عزم سے کیا گیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: جنوبی بلوچستان تنظیم کو فعال ورکنگ کمیٹی

پڑھیں:

میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا

جنوبی کوریا(southkorea) میں ایک معروف ریسٹورنٹ کے مالک کے خلاف میٹھے پکوانوں کی سجاوٹ کے لیے چیونٹیاں استعمال کرنے پر قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق جنوبی کورین استغاثہ نے عدالت سے ریسٹورنٹ کے مالک کو ایک سال قید اور تقریباً 13 ہزار 510 امریکی ڈالر جرمانے کی سزا دینے کی استدعا کی ہے۔

ریسٹورنٹ مالک نے دورانِ تفتیش اعتراف کیا کہ اس نے سوئٹ ڈشز کی ٹاپنگ کے لیے محدود پیمانے پر چیونٹیاں استعمال کیں، اس حوالے سے گاہکوں کو پہلے ہی آگاہ کر دیا جاتا تھا۔

مزیدپڑھیں:ورلڈ کپ فاتح ہسپانوی فٹبالرز کو وزن کے برابر ٹماٹر انعام میں مل گئے

تفتیشی حکام کے مطابق گزشتہ چار برسوں کے دوران امریکا اور تھائی لینڈ سے درآمد کی گئی تقریباً 49 ہزار چیونٹیاں مختلف پکوانوں، خصوصاً میٹھے ڈشز، میں استعمال کی گئیں۔

رپورٹس کے مطابق جنوبی کوریا کے موجودہ قوانین کے تحت چیونٹیاں ان 10 کیڑوں میں شامل نہیں ہیں جنہیں انسانی خوراک کے طور پر استعمال کی اجازت حاصل ہے، اسی بنیاد پر ریسٹورنٹ مالک کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔

عدالت اس مقدمے کا فیصلہ 2 ستمبر کو سنائے گی، جس کے بعد یہ واضح ہوگا کہ ریسٹورنٹ مالک کو سزا دی جاتی ہے یا نہیں۔

متعلقہ مضامین

  • غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • ایس سی او اجلاس کے موقع پر پاک چین وزرائے خارجہ کی ملاقات، علاقائی امن اور تعاون پر تبادلۂ خیال
  • شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف، یکطرفہ طاقت کے استعمال پر سخت تنقید کردی
  • عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
  • ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کا آغاز، اسحاق ڈار کی شرکت
  • میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار