حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈز (آئی ایم ایف) کو صوبوں کی مشاورت سے جلد نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) اجلاس بلانے کی یقین دہانی کرادی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اقتصادی جائزہ مذاکرات جاری ہیں، جس میں آئی ایم ایف نے نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) کے حوالے سے پیش رفت رپورٹ مانگی۔

ذرائع کے مطابق حکومت نے آئی ایم ایف کو صوبوں کی مشاورت سے جلد این ایف سی اجلاس بلانے کی یقین دہانی کرائی جبکہ مذاکرات میں مرکز و صوبوں کے وسائل کی تقسیم کو اہم نکتہ قرار دیا گیا۔

آئی ایم ایف نے صحت اور تعلیم کے بجٹ میں کمی سے بچنے، لیبر فورس، ہاؤس ہولڈ اور پی ایس ایل ایم سروے مکمل کرنے پر زور دیا۔

ذرائع کے مطابق مذاکرات میں آئی ایم ایف کو مالی سال 2025 کے ترقیاتی اخراجات اور 2026 کے فریم ورک پر بریفنگ اور حالیہ سیلاب کے معیشت پر پڑنے والے اثرات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق ای۔پیڈز پروکیورمنٹ سسٹم اور بیرونی آڈٹ رپورٹس پر بریفنگ دی گئی جبکہ مذاکرات میں بینیفیشل اونرشپ رجسٹری اور نان فنانشل پروفیشنز کی نگرانی کا معاملہ زیر بحث آیا۔

ذرائع کے مطابق مذاکرات میں ٹریڈ بیسڈ منی لانڈرنگ اور رسک پر مبنی نگرانی پر سوالات اٹھائے گئے۔

آئی ایم ایف سے مذاکرات کامیاب ہونے کی صورت میں پاکستان کو تقریباً 1.

2 ارب ڈالر قسط جاری کی جائے گی۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ذرائع کے مطابق ا ئی ایم ایف مذاکرات میں آئی ایم ایف ایف سی

پڑھیں:

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔

صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔

حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔

ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔

پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔

حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟

مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف

ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • بجٹ 2026-27: جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس میں بڑی کمی کی تجویز
  • بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
  • وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
  • حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی
  • اسلام آباد میں دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقات میں توسیع، نیا شیڈول جاری
  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے