data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

سکھر (نمائندہ جسارت) سندھ ایمپلائز ایسوسی ایشن کا سکھر پریس کلب کے باہر دوسرے روز بھی احتجاجی دھرنا اور بھوک ہڑتال، ہیلتھ، ایجوکیشن سمیت 41 مختلف محکموں کے ملازمین کی بڑی تعداد میں شرکت، پنشن کٹوتی اور ڈی آر اے الاؤنس سمیت دیگر مطالبات پیش، سکھر میں سندھ ایمپلائز ایسوسی ایشن کے تحت ہیلتھ ڈپارٹمنٹ، ڈسکا، آپکا، گھسٹا اور دیگر 41 محکموں سے تعلق رکھنے والے ملازمین نے اپنے مطالبات کے حق میں سکھر پریس کلب کے سامنے دوسرے روز بھی احتجاجی دھرنا دیا اور بھوک ہڑتال کی۔ اس موقع پر مرد و خواتین ملازمین کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جن کے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور وہ اپنے مطالبات کے حق میں نعرے بازی کر رہے تھے۔احتجاجی دھرنے کی قیادت مرکزی قیادت سمیت صدر شہزاد احمد عباسی، پیرا میڈیکل اسٹاف کے صدر فرید الدین بلوچ،جنرل سیکرٹری ایاز احمد کھوسو، اسد اللہ چاچڑ جنرل سیکرٹری تعلقہ محمد علی شیخ، خادم حسین کھوسو،عبدالرحمن جمالی، محمد اعظم مگنیجو،علی مردان شیخ، محمد اسماعیل، عبد القدیر میمن، عبد الحمید مہر، سائرہ حبیب، دریا بانو اور ساجدہ سمیت دیگر رہنماؤں نے کی۔ رہنماؤں نے احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد پنشن میں کٹوتی کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت ملازمین کو دیگر صوبوں کی طرح ڈی آر اے الاؤنس فراہم کرے اور ریٹائرمنٹ کے بعد گروپ انشورنس بھی دی جائے۔ رہنماؤں نے مزید کہا کہ اگر سندھ حکومت نے ہمارے مطالبات تسلیم نہ کیے تو سکھر سمیت سندھ کے دیگر شہروں میں بھی احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مطالبات کی منظوری نہ ہونے کی صورت میں آخری مرحلے میں کراچی میں وزیرِاعلیٰ ہاؤس کے باہر دھرنا دیا جائے گا جو اس وقت تک جاری رہے گا جب تک تمام جائز مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے۔مظاہرے میں شریک ملازمین نے اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے حقوق کے حصول کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے اور یہ احتجاجی دھرنا اور بھوک ہڑتالی کیمپ مزید دو روز تک جاری رہے گا جب تک ہمارے جائز مطالبات تسلیم نہیں کئے جاتے۔

نمائندہ جسارت گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اور بھوک

پڑھیں:

شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن

کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 6 زخمیوں سمیت 9 ڈاکو گرفتار
  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟