عدالت میں جج سمیت سب سجدے میں گر گئے
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
خانیوال:۔ پاکستان کے شہر دیپالپور میں واقع انتظامی سول عدالت میں ایک روح پرور منظر اس وقت دیکھنے میں آیا جب عدالتی کارروائی کے آغاز سے قبل سورہ بنی اسرائیل کی آیت نمبر 109 کی تلاوت کی گئی، جس کے نتیجے میں عدالت میں موجود تمام افراد سجدے میں گر گئے۔
تفصیلات کے مطابق ندیم اصغر ندیم، جو کہ دیپالپور کے انتظامی سول جج ہیں، نے عدالتی کارروائی سے قبل قرآن مجید کی مذکورہ آیت کی تلاوت فرمائی۔ یہ آیت اللہ رب العزت کے حضور سجدہ کرنے کی دعوت دیتی ہے، اور اس کے سننے یا پڑھنے والے پر سجدہ واجب ہو جاتا ہے۔
تلاوت کے فوری بعد، عدالت میں موجود جج، اسٹینوگرافر، ریڈر، اہلمد، قاصد، وکلا، منشی حضرات اور سائلین سب کے سب احتراماً سجدے میں جھک گئے، جس سے عدالت کا ماحول روحانیت اور خشوع سے بھر گیا۔
یاد رہے کہ نیشنل جوڈیشل پالیسی کمیٹی پاکستان کے جاری کردہ اصولوں کے مطابق عدالتی کارروائی کے آغاز سے قبل قرآن مجید کی تلاوت کو لازم قرار دیا گیا ہے، تاکہ عدالتی ماحول میں برکت اور انصاف کی روح قائم رہے۔
ندیم اصغر ندیم جج صاحب نہ صرف اپنی انتظامی صلاحیتوں کے لیے جانے جاتے ہیں بلکہ وہ دیپالپور کے دس ہزار سے زائد مقدمات کی کامیاب ڈسپوزل کے باعث عدالتی نظام میں ایک مثالی مقام رکھتے ہیں۔ ان کی قیادت میں دیپالپور کی عدالتیں نہ صرف قانون کی عملداری بلکہ روحانی اقدار کی پاسداری کا بھی مظہر بن چکی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔