گڈز ٹرانسپورٹرز کا 30 سال پرانی گاڑیوں کو ختم کرنے کا حکومت سندھ کا فیصلہ نہ ماننے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
گڈز ٹرانسپورٹرز نے سندھ حکومت کی جانب سے 30 سال پرانی گاڑیوں کو ختم کرنے کا فیصلہ نہ ماننے کا اعلان کردیا۔
گڈز ٹرانسپورٹرز نے کہا کہ ہم سندھ اور وفاقی حکومت کے کسی ایسی فیصلے کو نہیں مانیں گے۔
خالد خان غلام یاسین نے کہا کہ ہم نے کروڑوں روپے لگا کر اپنی گاڑیوں کو تیار کیا ہے، سندھ حکومت کی عجیب وغریب پالیسیز نے ہم پر پہاڑ گرا دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے 25 سال پرانی گاڑیوں کو ختم کرنے کا کہا ہے، 10 ویلرز کو ایکسل ویٹ دیا گیا ہے، سندھ حکومت ہر طرح ٹرانسپورٹروں کو لوٹنا چاہتی ہے، ہم کسی طرح سندھ حکومت کے فیصلے کو نہیں مانیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہاں ہر رشوت کا بازار گرم ہے، ایم 9 کہیں سے بھی موٹر وے نہیں ہے، ملک میں ترقی کا پہیہ رک جائے گا۔
طارق گجر نے کہا کہ 30 سے 35 سال پرانی گاڑیوں کو ختم کردیا جائے گا، ہماری دس ویلر گاڑیاں بند ہوجائینگی تو کاروبار کیسے کرینگے، اگر دس ویلرز گاڑیاں ختم کی گئیں تو بہت بڑا نقصان ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم ٹرانسپورٹرز ایسے کسی بھی فیصلے کو نہیں مانتے، ہم احتجاجا پورا پاکستان بند کریں گے، حکومت کی پالیسیز ظالمانہ ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سال پرانی گاڑیوں کو ختم سندھ حکومت نے کہا کہ
پڑھیں:
جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
برلن: جرمنی نے بحیرۂ احمر میں تعینات اپنے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ سفارتی پیش رفت کے بعد آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے ممکنہ مشن کی فوری ضرورت باقی نہیں رہی۔
جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق واپس بلائے جانے والے جہازوں میں ’فلڈا‘ نامی مائن ہنٹر اور ’موزیل‘ نامی سپورٹ شپ شامل ہیں۔ دونوں جہاز جون میں نہرِ سویز کے راستے بحیرۂ احمر پہنچے تھے اور اس وقت جبوتی میں تعینات تھے۔
ان جہازوں کے ساتھ تقریباً 140 اہلکار بھی موجود تھے، جن میں بارودی سرنگیں صاف کرنے والے غوطہ خور، خودکار زیرِ آب نظام کے ماہرین اور سکیورٹی ٹیمیں شامل تھیں۔
جرمن حکام کے مطابق ان بحری جہازوں کو اس خدشے کے پیش نظر تیار رکھا گیا تھا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگیں بچھاتا ہے تو انہیں فوری کارروائی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
جرمنی کے وزیر دفاع بورس پسٹوریئس پہلے ہی واضح کر چکے تھے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی فوجی مشن کا انحصار سیاسی اور سفارتی صورتحال کے ساتھ ساتھ ایران اور عمان سمیت علاقائی ممالک کی رضامندی پر ہوگا۔
وزارتِ دفاع نے کہا کہ یہ بحری مشن کسی جنگی کارروائی کا حصہ نہیں تھا بلکہ یورپی ممالک کی جانب سے عالمی بحری راستوں پر آزادانہ جہاز رانی کے تحفظ کی کوششوں کا حصہ تھا۔
اگرچہ یہ دونوں جہاز واپس بلائے جا رہے ہیں، تاہم جرمنی بدستور یورپی یونین کے آپریشن اسپائیڈیز میں شامل رہے گا، جس کا مقصد بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو یمن کے حوثی گروپ کے حملوں سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔
اس کے علاوہ جرمنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ لبنان کے ساحل پر اقوام متحدہ کے امن مشن یونیفل میں اپنی بحری شمولیت بھی 2026 کے اختتام تک برقرار رکھے گا۔
جرمن حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ فوری خطرات میں کچھ کمی آئی ہے، لیکن مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سکیورٹی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔ ان کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھتی ہے تو آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں عالمی جہاز رانی ایک مرتبہ پھر متاثر ہو سکتی ہے۔