غزہ سے اسرائیلی افواج کے انخلا کے معاملے پر وضاحت اور مزید بات چیت کی ضرورت ہے، شیخ محمد بن عبدالرحمان
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
اپنے ایک بیان میں قطری وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پیر کو جو پیش کیا گیا، وہ اصولوں کی ایک فہرست تھی، جسکی تفصیلات پر بات چیت کی ضرورت ہے۔ انکا کہنا تھا کہ امید ہے کہ تمام فریقین منصوبے کو تعمیری انداز میں دیکھیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ قطر کے وزیرِاعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کے کئی نکات وضاحت اور مذاکرات کے متقاضی ہیں۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ غزہ سے اسرائیلی افواج کے انخلا کے معاملے پر وضاحت درکار ہے اور اسرائیلی افواج کے انخلا پر مزید بات چیت ہونی چاہیئے۔ قطر کے وزیراعظم نے بتایا کہ پیر کو جو پیش کیا گیا، وہ اصولوں کی ایک فہرست تھی، جس کی تفصیلات پر بات چیت کی ضرورت ہے۔ قطری وزیراعظم کا کہنا تھا کہ امید ہے کہ تمام فریقین منصوبے کو تعمیری انداز میں دیکھیں گے، غزہ میں فلسطینی انتظامیہ پر امریکا کے ساتھ بات چیت کی جائے گی، اس کا اسرائیل سے کوئی تعلق نہیں، منصوبے میں جنگ بندی کو ایک واضح شق کے طور پر شامل کیا گیا ہے، امید ہے کہ فریقین جنگ خاتمے کے موقع سے فائدہ اٹھائیں گے۔
الجزیرہ سے گفتگو میں قطر کے وزیرِاعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی وزیراعظم کی معافی کوئی احسان نہیں بلکہ ہمارا بنیادی حق تھا۔ انہوں نے حماس پر واضح کیا کہ ہمارا اولین مقصد جنگ روکنا ہے، حماس نے ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے منصوبے کا جائزہ لینے کا وعدہ کیا ہے، ٹرمپ کا منصوبہ جنگ ختم کرنے کے بنیادی مقصد کو حاصل کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آج غزہ ثالثی اجلاس میں مصر اور ترکیے کے حکام بھی شریک ہوں گے، منصوبہ منظور ہوا تو عرب اور اسلامی ممالک فلسطینیوں کی حمایت کرنے والے تمام طریقہ کار میں شرکت کا خیرمقدم کریں گے۔ قطری وزیراعظم نے کہا کہ منصوبہ ابتدائی مراحل میں ہے، قطر ایسا راستہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے، جو فلسطینیوں کے حقوق کا تحفظ کرے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کا کہنا تھا کہ بات چیت کی
پڑھیں:
ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
تصویر بشکریہ غیر ملکی میڈیاازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ بخیتار سیدوف کو پیش کردیں۔
مدثر ٹیپو کا کہنا تھا کہ یہ ان کے لیے اعزاز ہے کہ انہوں نے وزیرخارجہ سے ملاقات میں یہ اسناد پیش کیں۔
ازبک وزیر خارجہ بختیار سیدوف کا کہنا تھا کہ ملاقات میں مختلف امور پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔