اقوام متحدہ کا بھی ٹرمپ کے غزہ جنگ بندی منصوبے کا خیر مقدم
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
نیویارک: اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ٹرمپ غزہ جنگ بندی منصوبے کا خیرمقدم کیا ہے۔
انتونیو گوتریس نے کہا کہ امن کے لیے عرب اور مسلم ممالک کا اہم کردار بھی قابل تعریف ہے، معاہدے اور اس کے نفاذ کے لیے تمام فریقوں کا پُرعزم ہونا اہم ہے۔ یہ بات انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہی۔
ان کا کہنا تھاکہ ہماری اولین ترجیح غزہ تنازع سے پیدا شدہ بدترین انسانی تکالیف کو کم کرنا ہے، غزہ میں فوری جنگ بندی اور بلا رکاوٹ انسانی امداد کی رسائی ہونی چاہیے۔
عالمی ادارے کے سربراہ نے کہا کہ غزہ سے تمام یرغمالیوں کی فوری اور غیرمشروط رہائی ہونی چاہیے، امید ہے یہ اقدامات دو ریاستی حل کے لیے سازگار حالات پیدا کریں گے۔
انتونیو گوتریس نے کہا کہ اقوام متحدہ مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کی کوششوں میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔