ویتنامی شہری نے 34 سال لگا کر دنیا کے سب سے لمبے ناخن بنالیے، عالمی ریکارڈ قائم
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
دنیا بھر میں گنیز ورلڈ ریکارڈز ایسے کارناموں کو محفوظ کرتا ہے جو غیرمعمولی محنت، صبر یا منفرد عادات کا نتیجہ ہوتے ہیں۔
ایسا ہی ایک دلچسپ اور حیرت انگیز ریکارڈ ویتنام کے ایک شہری نے اپنے نام کیا ہے۔ صوبہ نَم ڈِنھ سے تعلق رکھنے والے لو کانگ ہوین نے دنیا کے سب سے لمبے ناخن رکھنے والے مرد کا اعزاز حاصل کرلیا ہے، جن کی مجموعی لمبائی تقریباً 594.
اس ریکارڈ نے انہیں نہ صرف عالمی شہرت دلائی بلکہ یہ بھی ثابت کردیا کہ لگن اور صبر کے ساتھ انسان اپنی پسندیدہ عادت کو ایک تاریخی اعزاز میں تبدیل کرسکتا ہے۔
لو کانگ ہوین کے بائیں ہاتھ کے ناخن تقریباً 388.85 سینٹی میٹر جب کہ دائیں ہاتھ کے ناخن 205.60 سینٹی میٹر ہیں۔ سب سے لمبا ناخن ان کے بائیں انگوٹھے کا ہے جس کی لمبائی 127.5 سینٹی میٹر تک جاپہنچی ہے۔ یہ ناخن دیکھنے والوں کو محوِ حیرت کردیتے ہیں اور ان کی غیرمعمولی لمبائی نے انہیں ایک منفرد شخصیت بنا دیا ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ لو گزشتہ 34 سال سے ناخن بڑھا رہے ہیں۔ انہوں نے کبھی ان ناخنوں کو کاٹنا پسند نہیں کیا اور ان کے مطابق یہ ان کی زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔ اگرچہ عام انسانوں کے لیے یہ ایک عجیب شوق لگ سکتا ہے، مگر لو کے لیے یہ ان کی شناخت ہے جس پر اب دنیا بھر کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔
اتنے بڑے ناخن رکھنا آسان کام نہیں۔ لو نے اعتراف کیا کہ روزمرہ زندگی میں یہ ناخن ان کے لیے کئی مشکلات پیدا کرتے ہیں۔ کپڑے بدلنے، حرکت کرنے، کھانے پینے اور لباس پہننے جیسے عام کام بھی ان کے لیے ایک کٹھن مرحلہ بن جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ بعض اوقات ناخن ٹوٹ بھی جاتے ہیں۔ انہوں نے ان ٹوٹے ہوئے حصوں کو اپنے گھر میں محفوظ کر رکھا ہے، لیکن یہ گنیز ریکارڈ کا حصہ نہیں بنے۔
یہ ریکارڈ ہمیں اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ انسان اپنی عادات کو کس طرح غیرمعمولی سطح تک لے جاسکتا ہے۔
لو کانگ ہوین کی یہ کہانی دنیا بھر کے قارئین کے لیے نہ صرف دلچسپ ہے بلکہ حیران کن بھی، کیونکہ یہ ظاہر کرتی ہے کہ انسان کا عزم اور تسلسل کس طرح ایک عام سی چیز کو عالمی شہرت میں بدل سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سینٹی میٹر کے لیے
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔