امریکا میں شٹ ڈاؤن، ناسا بند ہو گیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
امریکی سینیٹ میں حکومتی فنڈنگ سے متعلق بل منظور نہ ہونے کے بعد امریکا میں شٹ ڈاؤن ہو گیا۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی شٹ ڈاؤن کے باعث ناسا بند کر دیا گیا اور اس متعلق ناسا کی ویب سائٹ پر شٹ ڈاؤن کا اعلان جاری کیا گیا ہے۔
ناسا کا کہنا ہے کہ فنڈز کی کمی کے باعث ایجنسی مکمل طور پر بند ہو گئی ہے۔ ناسا کے 18ہزار 218 ملازمین میں سے 15ہزار 94فارغ ہو گئے۔
ناسا کے 83 فیصد سے زائد اسٹاف کوجبری رخصت پربھیج دیا گیا۔
امریکا کے ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں ہی پر صدر ٹرمپ کی جماعت ری پبلکنز کا کنٹرول ہے مگر سو رکنی سینیٹ میں بل منظور کرانے کیلئے اسے ساٹھ ووٹ چاہئیں، جبکہ حکمراں جماعت کے پاس صرف 53 ووٹ ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ڈیموکریٹک بل سینیٹ پہلے ہی مسترد ہوچکا ہے جس کی حمایت میں 47 اور مخالفت میں 53 ووٹ پڑے تھے۔
اس کے بعد ری پبلکنز کی جانب سے پیش بل پر ووٹنگ ہوئی مگر پانچ ووٹوں کی کمی کے سبب یہ بل بھی مسترد کردیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق رینڈ پال واحد ری پبلکن ہیں جنہوں نے اپنی پارٹی کے بل کیخلاف ووٹ دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: شٹ ڈاو ن
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔