یہ غیر قانونی ٹرائل ، وکلا کے بغیر پیش نہیں ہوں گا،مجھے غلط بیانی سے ایک کمرے میں لے جاکر ویڈیو لنک میں ان کی حاضری لگوائی گئی،بانی پی ٹی آئی
ویڈیو لنک میں 3 بار پیش کیا گیا مگر مجھے کوئی آواز نہیں آئی کہ کیا ہو رہا ہے ، اڈیالہ جیل سے منتقلی کی خبر کا کچھ علم نہیں ، علیمہ خان کی پیشی پرمیڈیا سے گفتگو

بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے کہا ہے کہ ویڈیو لنک ٹرائل کہہ کر دھوکے سے حاضری لگوائی گئی، عمران خان اب پیش نہیں ہوں گے۔کچہری میں پیشی کے موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے بتایا کہ عمران خان کا کہنا ہے کہ ان کو غلط بیانی سے ایک کمرے میں لے جاکر ویڈیو لنک میں ان کی حاضری لگوائی گئی ۔ ویڈیو لنک میں 3 بار پیش کیا گیا مگر مجھے کوئی آواز نہیں آئی کہ کیا ہو رہا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ عمران خان کا کہنا ہے کہ اب وہ اپنے سیل سے بالکل باہر نہیں نکلیں گے،نہ ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہوں گے۔ عمران خان کا کہنا ہے کہ یہ غیر قانونی ٹرائل ہے، جس میں وکلا کے بغیر میں پیش نہیں ہوں گا۔علیمہ خان نے کہا کہ عمران خان کے لیے نئی نئی غیر قانونی چیزیں ایجاد کر رہے ہیں ،یہ ججز اور پراسیکیوشن کو نہیں کرنی چاہیے ۔ ہم امید کرتے ہیں عمران خان کو فیٔر ٹرائل کا حق ملے گا۔ یا وہ کورٹ میں پیش ہوں گے یا کورٹ ان کے پاس اڈیالہ جیل جائے گی ۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کو اڈیالہ جیل سے منتقل کرنے کی خبر کے بارے میں ہمیں کچھ علم نہیں ہے، نہ ہمارے پاس ایسی کوئی خبر ہے نہ ہمارے وکلا کو کچھ پتا ہے۔ اس موقع پر علیمہ خان کے وکیل فیصل ملک نے انسداد دہشت گردی عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ علیمہ خان پر جعلی اور بوگس مقدمہ بنایا گیا ہے، کیس کی سماعت 8 اکتوبر کو چارج فریم کرنے کے لیے فکس کی گئی ، چالان کی نقول عدالت نے تقسیم کیں، وہ وصول کر لی گئی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ علیمہ خان پر چارج لگایا گیا کہ وہ عمران خان سے ملیں اور ان سے ملنے کے بعد میڈیا پر آکر گفتگو کی ۔ علیمہ خان نے جو بھی میڈیا سے گفتگو کی وہ قانونی تھی اس میں ایسی کوئی بات نہیں تھی ، عمران خان کا ویڈیو لنک سے ٹرائل آئینی و قانونی حقوق کے خلاف ہے، ہم اس کو مسترد کرتے ہیں ، ویڈیو لنک کے ذریعے ٹرائل کے خلاف پٹیشن ہائیکورٹ میں کو لگی ہوئی ہے۔قبل ازیں 26 نومبر ڈی چوک احتجاج کے سلسلے میں تھانہ صادق آباد میں درج مقدمہ میں علیمہ خان اپنی بہنوں نورین خان اور ڈاکٹر عظمیٰ خان کے ساتھ انسداد دہشت گردی عدالت پہنچیں، جہاں انہیں چالان کی نقول دی گئیں۔ آئندہ سماعت پر عدالت کی جانب سے فرد جرم عائد کی جائے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: ویڈیو لنک میں کہ عمران خان عمران خان کا علیمہ خان نے سے گفتگو کہا کہ نے کہا

پڑھیں:

ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس نے صارفین کے لیے نیا ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا ہے جس کے ذریعے صارفین کسی بھی پوسٹ پر براہِ راست ویڈیو ردِعمل ریکارڈ کر سکیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: ایکس نے ایڈیٹ شدہ تصاویر کے لیے نیا لیبل متعارف کروانے کا اعلان کردیا

نئے فیچر کو انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پر مقبول ری ایکشن ویڈیوز کے تصور سے مشابہ قرار دیا جا رہا ہے جس کا مقصد صارفین کو اپنے خیالات اور تبصروں کے اظہار کے لیے مزید تخلیقی اور بصری طریقہ فراہم کرنا ہے۔

ایکس کے ہیڈ آف پروڈکٹ نکیتا بیئر نے فیچر کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ تبصرہ اور رائے کا اظہار ایکس کی بنیادی خصوصیات میں شامل ہے اور بعض اوقات خیالات کے اظہار کا بہترین طریقہ ویڈیو ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب صارفین ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ کے ذریعے کسی بھی پوسٹ پر فوری ویڈیو ردعمل دے سکیں گے۔

فیچر کیسے کام کرتا ہے؟

صارفین کو کسی پوسٹ کے نیچے موجود ری پوسٹ بٹن پر کلک کرنا ہوگا جہاں انہیں ویڈیو ری ایکشن ریکارڈ کرنے کا آپشن ملے گا۔

مزید پڑھیے: سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کو ایک ہفتے میں دوسری بار عالمی سطح پر تکنیکی خرابی کا سامنا

ابتدائی مرحلے میں یہ سہولت صرف آئی او ایس صارفین کے لیے دستیاب کی گئی ہے۔

ویڈیو ریکارڈنگ کے دوران اصل پوسٹ پس منظر میں نظر آتی ہے جبکہ صارف اپنی رائے یا ردعمل ویڈیو کی صورت میں ریکارڈ کر سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کے دوران ویڈیو کو عارضی طور پر روکنے اور دوبارہ شروع کرنے کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔

ویڈیو مکمل ہونے کے بعد صارف اسے پوسٹ کرنے سے قبل دیکھ اور جانچ بھی سکتا ہے۔

مختلف ڈسپلے موڈز

نئے فیچر میں متعدد ویژول آپشنز شامل کیے گئے ہیں۔

پکچر اِن پکچر: ویڈیو اصل پوسٹ کے اوپر نظر آتی ہے۔

اسپلٹ اسکرین : اسکرین 2 حصوں میں تقسیم ہو جاتی ہے، ایک جانب صارف اور دوسری جانب اصل پوسٹ۔

مزید پڑھیں: انسٹاگرام کا نیا فیچر ’انسٹاگرام میپ‘، اسنیپ چیٹ کو ٹکر دینے کی کوشش

فل اسکرین میڈیا: اصل پوسٹ کے متن کو چھپا کر صرف تصویر یا ویڈیو پر توجہ مرکوز کی جا سکتی ہے۔

گرین اسکرین: پس منظر تبدیل یا ہٹانے کی سہولت۔

صارفین ویڈیو کے سائز اور اس کی پوزیشن کو بھی اپنی مرضی کے مطابق تبدیل کر سکتے ہیں۔

بیرونی ایڈیٹنگ ٹولز کی ضرورت ختم

ایکس کے مطابق اس فیچر کی بدولت صارفین کو ویڈیوز ڈاؤن لوڈ کرنے، الگ سے ایڈیٹنگ کرنے یا پیچیدہ ورک فلو اختیار کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی کیونکہ بیشتر بنیادی ایڈیٹنگ سہولیات ایپ کے اندر ہی دستیاب ہوں گی۔

صارفین کا ردعمل

فیچر کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔

کئی صارفین نے اسے ایکس کے لیے مثبت پیشرفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ویڈیو ری ایکشنز پلیٹ فارم پر گفتگو کو زیادہ مؤثر اور دلچسپ بنائیں گے۔

ایک صارف نے لکھا کہ ’یہ شاندار فیچر ہے، ایکس پر تبصرے اور اظہارِ خیال کے لیے یہی چیز درکار تھی‘۔

تاہم بعض صارفین نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس سے ایکس بھی دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی طرح ہو جائے گا۔

ایک صارف نے تبصرہ کیا کہ ’ فیچر دلچسپ تو ہے لیکن امید ہے کہ ایکس فیس بک یا یوٹیوب جیسا پلیٹ فارم نہیں بن جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے: انسٹاگرام کا نیا فیچر ‘انسٹنٹس’ متعارف: غیر فلٹر شدہ اور عارضی تصاویر کا نیا تجربہ

ماہرین کے مطابق ویڈیو ری ایکشنز کا یہ نیا فیچر ایکس کو روایتی ٹیکسٹ بیسڈ پلیٹ فارم سے بڑھ کر ایک ملٹی میڈیا اور ویڈیو سینٹرک سوشل نیٹ ورک میں تبدیل کرنے کی کوشش کا حصہ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ ایکس ایکس کا نیا فیچر

متعلقہ مضامین

  • کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان