ایشیا کپ تنازعہ، اے بی ڈی ویلیئرز نے بھی بھارتی ٹیم کو آڑے ہاتھوں لے لیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
جنوبی افریقہ کے سابق کپتان اور لیجنڈ بلے باز اے بی ڈی ویلیئرز نے بھی ایشیا کپ کے دوران بھارتی ٹیم کے اسپورٹس مین اسپرٹ کے خلاف رویے پر آواز اٹھا دی۔
سوشل میڈیا کے ایک ویڈیو پروگرام میں اے بی ڈی ویلیئرز نے بھارت کے رویے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مطالبہ کیا کہ خطے کی سیاست کو کھیل کے میدان سے الگ رکھا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بھارتی ٹیم شاید اس سے خوش نہیں تھی جس سے اس نے ٹرافی وصول کرنی تھی، لیکن میرا نہیں خیال کہ اس بات کا کھیل سے کوئی تعلق بنتا ہے۔
اے بی ڈی ویلیئرز کا کہنا تھا کہ ایشیا کپ کی اختتامی تقریب میں سب کچھ دیکھ کر دکھ ہوا، امید ہے معاملات کو جلد حل کیا جائے گا، اس صورتحال سے کھیل اور کھلاڑی مشکل میں پڑے، یہ سب دیکھنے سے مجھے نفرت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سیاست کو کھیل سے الگ ہونا چاہیے، کھیل ایک الگ چیز ہے اس کا جشن ویسے ہی منانا چاہیے۔
یاد رہے کہ بھارتی ٹیم نے ایشیا کپ کے میچز میں پاکستان ٹیم سے ہاتھ ملانے سے انکار کردیا تھا۔
بھارت ٹیم نے فائنل جیتنے کے بعد ہٹ دھرمی دکھاتے ہوئے ایشین کرکٹ کونسل کے صدر محسن نقوی سے ٹرافی بھی وصول نہیں کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اے بی ڈی ویلیئرز بھارتی ٹیم ایشیا کپ
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔