کراچی، آٹزم سینٹر میں خصوصی بچے پر تشدد، خاتون اسسٹنٹ برطرف، مقدمہ درج
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
کراچی:
شہر قائد میں گلشن اقبال میں واقع آٹزم کیئر اینڈ ری ہیبلیٹیشن آرگنائزیشن میں افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک خاتون اسسٹنٹ صفیہ ناز کی جانب سے دماغی کمزوری کے شکار نوعمر بچے پر تشدد کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔
واقعے پر شدید عوامی ردعمل کے بعد ادارے نے فوری کارروائی کرتے ہوئے خاتون اسسٹنٹ کو نوکری سے برطرف کر دیا۔
ایس ایچ او گلشن اقبال نعیم راجپوت کے مطابق ادارے کے افسر کی مدعیت میں صفیہ ناز کے خلاف مقدمہ نمبر 601/2025 درج کر لیا گیا ہے، جو دفعہ 328-A، 337-A(i) اور چلڈرن پروٹیکشن ایکٹ کے تحت قائم کیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی تفتیش جاری ہے اور متاثرہ بچے کے اہلخانہ سے بھی رابطہ کیا جا رہا ہے تاکہ مکمل حقائق سامنے لائے جا سکیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ایران کا بحرین میں ایمیزون کے ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنانے کا بڑا دعویٰ
تہران / منامہ: ایران کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحرین میں امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایمیزون کے ایک ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ کارروائی امریکا کے خلاف جاری جوابی اقدامات کا حصہ ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے ایک بیان میں کہا کہ حملے کا ہدف امریکی کمپنی ایمیزون کی وہ ڈیٹا تنصیب تھی جو ان کے بقول امریکی فوج کو معلوماتی معاونت فراہم کرنے میں کردار ادا کر رہی تھی۔
بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ مذکورہ ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا تاہم ایرانی حکام نے اس دعوے کے حق میں فوری طور پر کوئی شواہد یا مزید تفصیلات پیش نہیں کیں۔
دوسری جانب خبر شائع ہونے تک امریکی کمپنی ایمیزون، بحرین کی حکومت یا امریکی حکام کی جانب سے ایران کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی اس حملے یا اس کے ممکنہ نقصانات کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
ایران نے ایک بار پھر اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں وہ تمام فوجی اڈے یا تنصیبات جو امریکا ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کرتا ہے، ایران کی نظر میں جوابی حملوں کے لیے جائز ہدف ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایران کے دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ پہلی بار ہوگا کہ کسی بڑی عالمی ٹیکنالوجی کمپنی کی تنصیب کو ایران نے براہِ راست اپنی فوجی کارروائی کا ہدف قرار دیا ہے۔ تاہم اس معاملے کی آزادانہ تصدیق کا انتظار کیا جا رہا ہے۔