پنجاب کی تاریخ کا سب سے بڑا فلڈ سروے، 27 اضلاع سے ہزاروں متاثرین کا ریکارڈ جمع
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
لاہور:
پنجاب کی تاریخ کا سب سے بڑا فلڈ سروے جاری ہے، جس میں 27 اضلاع سے ہزاروں متاثرین کا ریکارڈ جمع کرلیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبے کی تاریخ کا سب سے بڑا فلڈ سروے جاری ہے، جس میں سیلاب سے متاثرہ 27 اضلاع میں 1857 ٹیمیں سرگرم عمل ہیں۔ پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق اب تک 81 ہزار 510 متاثرین کی تفصیلات جمع کر لی گئی ہیں۔
سروے ٹیموں نے مختلف اضلاع میں 56 ہزار 207 کسانوں سے فصلوں کے نقصانات کے بارے میں معلومات حاصل کیں جب کہ 53 ہزار 985 ایکڑ سیلاب متاثرہ اراضی کی نشاندہی بھی کر لی گئی۔
فلڈ سروے کے دوران 24 ہزار 246 مکانات کا ڈیٹا جمع کیا گیا، جب کہ سیلاب میں مویشیوں سے محروم ہونے والے 1057 افراد کی تفصیلات بھی حاصل کی گئیں۔ مختلف اضلاع سے 3945 ہلاک مویشیوں کی اطلاعات موصول ہو چکی ہیں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا کے مطابق اربن یونٹ، ریونیو، زراعت، لائیو اسٹاک اور پاک فوج کے نمائندے گھر گھر جا کر متاثرین سے ڈیٹا اکٹھا کر رہے ہیں، جب کہ پی ڈی ایم اے روزانہ کی بنیاد پر سروے کی پیش رفت کا جائزہ لے رہا ہے۔
کئی مقامات پر سروے ٹیمیں کشتیوں کی مدد سے دیہات کا دورہ کر رہی ہیں اور کھڑے پانی سے گزر کر متاثرہ افراد کی معلومات یقینی بنا رہی ہیں۔ پی ڈی ایم اے نے تمام ٹیموں کو ہدایت کی ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے ویژن پر مکمل عمل کیا جائے اور کسی متاثرہ شخص کا ڈیٹا رہ نہ جائے۔
اس موقع پر ایک بزرگ شہری نے وزیراعلیٰ مریم نواز کے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ نواز شریف کی بیٹی سیلاب متاثرین کے نقصان کا ازالہ ضرور کرے گی۔ بزرگ شہری نے مریم نواز اور میاں نواز شریف کے حق میں نعرے لگاتے ہوئے سروے ٹیموں کا شکریہ بھی ادا کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پی ڈی ایم اے
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔