سیلاب متاثرین کا سروے جاری، 81 ہزار افراد کا ڈیٹا جمع
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
لاہور (این این آئی) وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی ہدایت پر پنجاب کی تاریخ کا سب سے بڑا فلڈ سروے جاری ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق سیلاب سے متاثرہ 27اضلاع میں 1857ٹیموں نے ڈیٹا اکٹھا کرنے میں حصہ لیا۔ فلڈ سروے میں 81ہزار 510 متاثرین کی تفصیلات جمع کر لی گئی ہیں۔ پی ڈی ایم اے پنجاب کا کہنا ہے کہ سروے ٹیموں نے مختلف اضلاع میں 56207کسانوں سے فصلوں کے نقصانات بارے جانچ پڑتال کی۔ اب تک سروے ٹیموں نے 53985ایکڑ سیلاب متاثرہ اراضی کی نشاندہی کی ہے۔ سیلاب سے متاثرہ 24246مکانات کا ڈیٹا جمع کر لیا گیا۔ مویشیوں سے محروم ہونے والے 1057افراد سے بھی تفصیلات لی گئیں۔ مختلف اضلاع سے سروے کے مطابق 3945ہلاک مویشیوں کی تفصیلات موصول ہوئیں۔ اربن یونٹ، ریونیو، محکمہ زراعت، لائیو سٹاک اور پاک فوج کے نمائندے گھر گھر جا کر سروے کر رہے ہیں۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا نے کہا کہ پی ڈی ایم اے پنجاب روزانہ کی بنیاد پر سروے میں پیش رفت کا جائزہ لے رہا ہے۔ سیلاب متاثرہ بزرگ شہری نے وزیر اعلی پنجاب کے اقدامات کی تعریف کی اور دعائوں سے نوازا۔ بزرگ شہری نے کہا کہ یقین ہے نواز شریف کی بیٹی متاثرین سیلاب کے نقصانات کا ازالہ کرے گی۔ بزرگ شہری نے وزیر اعلی پنجاب اور میاں نواز شریف زندہ باد کے نعرے لگائے اور سروے ٹیموں کا شکریہ ادا کیا۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق سروے ٹیمیں کشتیوں کی مدد سے بھی متاثرہ دیہات کا وزٹ کر رہی ہیں، کھڑے سیلابی پانی میں سے گزر کر متاثرین کا ڈیٹا ہر صورت یقینی بنایا جا رہا ہے، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ ادارے شفافیت کیلئے دن رات محنت کر رہے ہیں۔ قصور میں دریائے ستلج میں سیلابی صورتحال معمول پر آگئی۔ پانی کے بہائو میں اتار چڑھائو تاحال برقرار ہے۔ قصور، پتوکی، کوٹ رادھاکشن اور چونیاں میں سیلاب متاثرین کے نقصانات کے ازالہ اور متاثرہ علاقوں میں انفراسٹرکچر کی تباہی کا تخمینہ لگانے کے لیے پاک آرمی، محکمہ ریونیو، لائیوسٹاک، ایگریکلچر اور ویٹرنری پر مشتمل سروے ٹیموں نے فیلڈ میں جاکر باقاعدہ طور پر سروے کا آغاز کر دیا۔ حکومت پنجاب نے سیلاب متاثرین کے نقصانات کے ازالہ کے لیے فلڈ ریلیف کارڈز جاری کرنے کا اعلان بھی کردیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پی ڈی ایم اے سروے ٹیموں کے نقصانات ٹیموں نے
پڑھیں:
فیفا ورلڈکپ 2026 کا آغاز 12 جون سے
دنیا کے سب سے بڑے کھیلوں کے مقابلے فیفا فٹبال ورلڈکپ(FIFA World Cup) 2026 کا آغاز 12 جون سے امریکا، میکسیکو اور کینیڈا کی مشترکہ میزبانی میں ہوگا۔
یہ تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ ورلڈکپ میں 48 ٹیمیں حصہ لیں گی، جس کے باعث ٹورنامنٹ پہلے سے زیادہ طویل، دلچسپ اور غیر متوقع نتائج کا حامل ہوگا۔
تفصیلات کے مطابق اس بار 48 ٹیموں کو 12 گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے، ہر گروپ میں 4 ٹیمیں شامل ہوں گی۔ مجموعی طور پر اس ٹورنامنٹ میں 104 میچز کھیلے جائیں گے، جو اسے فیفا ورلڈکپ کی تاریخ کا سب سے بڑا ایڈیشن بنا دیتے ہیں۔
نئے فارمیٹ کے تحت ہر گروپ سے پہلی اور دوسری پوزیشن حاصل کرنے والی ٹیمیں براہ راست ناک آؤٹ مرحلے میں پہنچیں گی۔ اس بار پہلی مرتبہ راؤنڈ آف 32 کا مرحلہ بھی شامل کیا گیا ہے، جس کے بعد مقابلہ مزید سخت ہوتا جائے گا۔
ٹورنامنٹ میں دنیا کی بڑی فٹبال ٹیمیں ایک بار پھر ٹائٹل کے حصول کے لیے میدان میں اتریں گی، تاہم ماہرین کے مطابق 48 ٹیموں کی شمولیت کے باعث کسی بھی واضح فیورٹ کا تعین کرنا پہلے سے زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔
اسی تناظر میں اوپٹا سپر کمپیوٹر نے جدید ڈیٹا اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس ماڈل کے ذریعے ورلڈکپ کی پیشگوئی کی ہے۔ یہ ماڈل ہزاروں بار ٹورنامنٹ کے ممکنہ نتائج کو ڈیجیٹل طور پر سمولیٹ کر کے نتائج اخذ کرتا ہے اور ہر ٹیم کے جیتنے، فائنل تک پہنچنے اور ناک آؤٹ مرحلے میں کارکردگی کے امکانات کا تجزیہ پیش کرتا ہے۔
مزیدپڑھیں:عمران خان نے قومی حکومت کی حامی بھرلی ،فواد چوہدری کادعویٰ
سپر کمپیوٹر کے مطابق اس بار فیورٹ ٹیموں میں اسپین سب سے آگے ہے، جس کے ورلڈکپ جیتنے کے امکانات 16.1 فیصد بتائے گئے ہیں۔ اس کے بعد فرانس کو 13 فیصد، انگلینڈ کو 11.2 فیصد اور ارجنٹینا کو 10.4 فیصد کے ساتھ ممکنہ ٹاپ امیدواروں میں شامل کیا گیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق یہ چاروں ٹیمیں وہ ہیں جن کے امکانات دیگر ٹیموں کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہیں۔ تاہم ماڈل یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ اسپین کے لیے ٹائٹل جیتنے کا راستہ آسان نہیں ہوگا، کیونکہ اس کے کوارٹر فائنل تک نہ پہنچنے کا امکان بھی 52 فیصد سے زیادہ بتایا گیا ہے۔
تجزیاتی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسپین کے کوارٹر فائنل تک پہنچنے کی صورت میں سیمی فائنل تک رسائی کا امکان تقریباً 39 فیصد اور فائنل میں پہنچنے کا امکان 25.6 فیصد ہے، جو اسے ایک مضبوط مگر غیر یقینی پوزیشن میں رکھتا ہے۔
48 ٹیموں کی شمولیت نے ورلڈکپ کو مزید غیر متوقع بنا دیا ہے، جہاں کسی بھی بڑے اپ سیٹ کا امکان پہلے سے زیادہ بڑھ گیا ہے، اور یہی اس ٹورنامنٹ کو خاص اور دلچسپ بناتا ہے۔